خیبر کے علاقے باڑہ میں پی ٹی آئی کا احتجاج پُرتشدد، سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی گئی

0
10

خیبر (ایم این این): خیبر کی تحصیل باڑہ میں منگل کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں کا احتجاج پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے بعد پُرتشدد صورت اختیار کر گیا، جبکہ سرکاری عمارتوں کو آگ لگائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی اور فائرنگ بھی کی، جبکہ بعض مظاہرین نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم پانچ مظاہرین زخمی ہوئے۔ تاہم پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے ایک ڈاکٹر نے صحافیوں کو بتایا کہ اسپتال میں ایک درجن سے زائد زخمیوں کو لایا گیا، جن میں چار پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔

احتجاج خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور صوبے کے 12 اضلاع، بشمول خیبر، میں ایمرجنسی کے اعلان کے خلاف کیا گیا۔ گورنر راج کے باعث وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا عہدہ عملاً غیر مؤثر ہو گیا ہے۔

دوپہر کے وقت پی ٹی آئی کے درجنوں کارکن باڑہ بازار کے خیبر چوک پر جمع ہوئے، جس کے بعد پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق پولیس نے ابتدا میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ کچھ مظاہرین منتشر ہو گئے، تاہم مقامی رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی مزید پی ٹی آئی کارکنوں کے ہمراہ موقع پر پہنچے تو صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا، جبکہ بعض اہلکاروں نے قریبی دکانوں اور تجارتی عمارتوں میں پناہ لی۔ اطلاعات کے مطابق بعض مظاہرین نے اہلکاروں کو دکانوں سے باہر نکال کر ان کے ساتھ ہاتھا پائی کی، جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور ہوا میں فائرنگ کی۔

اس دوران قریبی نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے دفتر اور ریسکیو 1122 کی عمارت کے ایک حصے کو بھی آگ لگائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔

پولیس نے بالآخر خیبر چوک سے مظاہرین کو منتشر کر دیا، تاہم احتجاج ختم ہونے کے بعد بھی باڑہ بازار کی جانب جانے والی سڑکیں بند رہیں۔

دریں اثنا، باڑہ سیاسی اتحاد کے رہنماؤں نے پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس دونوں سے اپیل کی کہ وہ تصادم اور تشدد سے گریز کریں۔

گرفتاریاں

پشاور کیپیٹل سٹی پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ باڑہ میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کرنے والے 50 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا کی نو تعینات مشیر برائے اطلاعات و نشریات سمر ہارون بلور نے دعویٰ کیا کہ توڑ پھوڑ اور بدامنی میں ملوث پی ٹی آئی سے وابستہ 42 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں ان کے بقول 25 غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہری ہیں۔

بلور نے مظاہرین پر سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پر پی ٹی آئی رہنماؤں کی قیادت میں بعض افراد نے باڑہ چوک پر بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے گرفتاریاں کرکے صورتحال پر قابو پا لیا۔

گرفتار افراد کی تعداد، املاک کو پہنچنے والے نقصان اور زیر حراست افراد کی شہریت اور امیگریشن حیثیت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں