پیرس (MNN)؛ ہیکرز نے فرانس بھر میں سینکڑوں سپر مارکیٹوں کے منسلک ریفریجریٹرز اور فریزرز کو نشانہ بناتے ہوئے راتوں رات ان کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا دیا، جس کے نتیجے میں آگ لگنے کے واقعات پیش آئے اور بڑی مقدار میں خوراک خراب ہوگئی۔
پیرس کے پراسیکیوٹر آفس نے پیر کو بتایا کہ بڑے پیمانے پر ہونے والے سائبر حملے سے فرانس کے کئی بڑے فوڈ ریٹیل گروپس کے منسلک ریفریجریشن سسٹمز متاثر ہوئے، جس کے باعث خوراک کا نقصان اور آگ لگنے کے واقعات سامنے آئے۔
فرانسیسی وزیراعظم سباسٹین لیکورنو نے ملک کے قومی سائبر سکیورٹی ادارے (ANSSI) کو واقعے کی تحقیقات کی ہدایت کی ہے۔ حکام دیگر یورپی ممالک کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہاں بھی ایسے حملے ہوئے ہیں اور فرانس میں مزید کاروباری ادارے خطرے سے دوچار ہیں یا نہیں۔
سائبر تھریٹ انٹیلی جنس کے سینئر تجزیہ کار فیلکس ایمے کے مطابق اسپین، پرتگال، پولینڈ، جرمنی اور بیلجیم میں بھی اس حملے کے اثرات سامنے آئے ہیں۔
فرانس کے مختلف سپر مارکیٹ گروپس نے نقصانات کی تصدیق کی ہے۔ کیریفور کے مطابق اس کی 80 سپر مارکیٹیں متاثر ہوئیں، جبکہ مونوپرکس نے بتایا کہ فرانس میں اس کے تقریباً 490 اسٹورز میں سے پانچ فیصد اس حملے کی زد میں آئے۔
انٹرمارشے کی مالک کمپنی لی موسکیتیر کے مطابق اس کے تقریباً 150 اسٹورز میں ریفریجریشن یونٹس کا درجہ حرارت رات کے دوران چھ گھنٹے تک 50 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔ کمپنی نے ممکنہ طبی خطرات سے بچنے کے لیے تمام متاثرہ خوراک تلف کر دی۔
وسطی پیرس میں انٹرمارشے کے ایک اسٹور کے عملے کو بڑی مقدار میں پگھلی ہوئی منجمد خوراک کچرے کے بڑے کنٹینر میں پھینکتے دیکھا گیا۔ پگھلی ہوئی آئس کریم ٹوٹے ہوئے ڈبوں سے نکل کر سڑک پر بھی بہتی رہی۔
سپر مارکیٹ گروپ کوآپریٹیو یو کے چیف ایگزیکٹو ڈومینیک شیلشر نے بھی تصدیق کی کہ ان کے ادارے کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے تازہ خوراک محفوظ رکھنے اور عوام کو غذائی ضروریات کی فراہمی کے لیے اہم آلات پر حملے کو انتہائی سنگین اور غیر معمولی قرار دیا۔
ای لی کلیرک اور اوشان سپر مارکیٹ گروپس نے فوری طور پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
اگرچہ مجموعی مالی نقصان کا حتمی تخمینہ سامنے نہیں آیا، تاہم انٹرمارشے کے چیف ایگزیکٹو تھیری کوتیار نے فرانسیسی ٹی وی چینل بی ایف ایم ٹی وی کو بتایا کہ اس غیر معمولی حملے سے ملک بھر میں ایک ہی دن کے دوران کروڑوں یورو کا نقصان ہو سکتا ہے۔
یورپی ریٹیل ایسوسی ایشن یوروکامرس کی ڈائریکٹر جنرل کرسٹل ڈیلبرگھے نے کہا کہ یہ واقعہ پوری سپلائی چین میں سائبر سکیورٹی اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔
حکام حملے کے مکمل دائرہ کار، دیگر یورپی ممالک پر اس کے اثرات اور فرانس میں مزید کاروباری اداروں کو لاحق ممکنہ خطرات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔


