اسلام آباد (ایم این این)؛ وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) نے بدھ کو سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی القادر ٹرسٹ کے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سات سالہ سزا معطل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ، جس میں جسٹس علی باقر نجفی بھی شامل تھے، نے قرار دیا کہ اس مرحلے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے 30 اپریل کے حکم میں مداخلت کے لیے کافی بنیاد موجود نہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے کی درخواست اس وقت منظور نہیں کی تھی جب ان کی اور عمران خان کی سزاؤں کے خلاف مرکزی اپیلیں زیر التوا تھیں۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے تین صفحات پر مشتمل حکم میں کہا کہ اس مرحلے پر سزا معطلی کی درخواست کے میرٹس کا الگ سے جائزہ لینے کے بجائے مرکزی اپیل کا جلد فیصلہ کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔
عدالت نے توقع ظاہر کی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ مرکزی اپیل جلد نمٹانے کی کوشش کرے گی، دونوں فریقین کو مؤقف پیش کرنے کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں گے اور غیر ضروری التوا سے گریز کیا جائے گا۔
عدالتی کارروائی میں تاخیر کی نشاندہی
وفاقی آئینی عدالت نے مشاہدہ کیا کہ بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے کی درخواست قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے بار بار التوا طلب کیے جانے کے باعث اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا رہی۔
عدالتی حکم کے مطابق مرکزی اپیل کی سماعت ابتدائی طور پر 30 اپریل کو مقرر تھی، جسے بعد ازاں 7 مئی اور پھر 5 اکتوبر تک ملتوی کیا گیا۔
عدالت نے کہا کہ بشریٰ بی بی کے وکیل کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ نیب کی جانب سے مبینہ طور پر بار بار التوا لینے کے باعث سزا معطلی کی درخواست پر کارروائی طویل ہوتی رہی۔
تاہم عدالت کے مطابق مرکزی اپیل کی سماعت پہلے سے مقرر ہونے کے باعث مناسب راستہ یہی ہے کہ اس کا فیصلہ جلد کیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بشریٰ بی بی کے وکیل کو ہائی کورٹ کی کارروائی میں مکمل معاونت فراہم کرنا ہوگی، جبکہ نیب پر بھی لازم ہوگا کہ وہ غیر ضروری التوا کے بغیر اپنے دلائل پیش کرے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ مقدمے کا ریکارڈ زیادہ ہونے اور تفصیلی دلائل کی ضرورت بذات خود ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کے لیے کافی جواز نہیں۔
وفاقی آئینی عدالت نے بشریٰ بی بی کی فوجداری اپیل دائر کرنے میں ہونے والی 61 روزہ تاخیر بھی معاف کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ اڈیالہ جیل میں قید ہونا تاخیر معاف کرنے کے لیے کافی وجہ ہے۔
طبی حالت اور مبینہ تنہائی میں قید
بشریٰ بی بی کی اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ خاتون ہونے اور سنگین طبی مسائل کے باعث وہ ضابطۂ فوجداری کی متعلقہ دفعات کے تحت سزا معطلی کی رعایت کی مستحق ہیں۔
درخواست میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ جیل حکام بشریٰ بی بی اور ان کے وکیل کی ملاقات یقینی بنانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کی سابقہ ہدایات پر عمل نہیں کر رہے تھے۔
اپیل کے مطابق بشریٰ بی بی کے وکیل کو اس کے بجائے عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی گئی، جنہوں نے مبینہ طور پر بتایا کہ انہیں اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔
درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ دونوں کو اہل خانہ، دوستوں، وکلا اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کے علاوہ ایک دوسرے تک رسائی، کتابوں اور ٹیلی ویژن کی سہولت سے بھی محروم رکھا گیا۔
اپیل کے مطابق بشریٰ بی بی کی آنکھوں کی سرجری کے بعد 17 اپریل کو ان سے ملاقات کرنے والی ان کی بیٹیوں نے بھی مبینہ حالات کی تصدیق کی۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ تنہائی میں رکھنے کا یہ مبینہ عمل آئین کے آرٹیکل 9 کے تحت زندگی اور انسانی وقار کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس سے سزا میں غیر قانونی اضافہ ہوتا ہے۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ طویل تنہائی نے بشریٰ بی بی کی جسمانی اور ذہنی صحت کو متاثر کیا ہے، جبکہ ان کی بینائی کی حالت بھی بگڑ رہی ہے۔
یہ تمام نکات اپیل میں درخواست گزار کے مؤقف کے طور پر پیش کیے گئے تھے؛ وفاقی آئینی عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے اپنے حکم میں ان الزامات کو ثابت شدہ عدالتی حقائق قرار نہیں دیا۔
نیب کی تحقیقات پر اعتراضات
اپیل میں نیب پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ ادارے نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف منتخب انداز میں کارروائی کی، جبکہ مبینہ طور پر کیس سے متعلق چھ دیگر افراد کو مقدمے میں شامل نہیں کیا گیا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ تحقیقات نامکمل اور جانبدارانہ تھیں اور ملک ریاض خاندان سمیت بعض دیگر افراد کے مبینہ کردار کے باوجود ان کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔
بشریٰ بی بی کے وکیل کے مطابق استغاثہ ان کے خلاف الزامات ثابت کرنے کے لیے کافی، قابلِ اعتماد اور قانونی طور پر قابلِ قبول شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔
تاہم بدھ کے عدالتی حکم میں بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا اس مرحلے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کی ضرورت ہے۔ عدالت نے سزاؤں کے خلاف مرکزی اپیلوں کے میرٹس کا فیصلہ نہیں کیا۔
القادر ٹرسٹ کیس کا پس منظر
بشریٰ بی بی کو جنوری 2025 میں اس کیس میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور وہ تاحال راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ عمران خان کو بھی اسی مقدمے میں سزا سنائی گئی تھی۔
مقدمے کا تعلق برطانیہ میں منی لانڈرنگ تصفیے سے منسلک رقوم کی واپسی اور ان کے انتظام کے معاملے میں پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کو مبینہ طور پر ناجائز فائدہ پہنچانے کے الزامات سے ہے۔
بشریٰ بی بی اور عمران خان نے جولائی 2025 میں اپنی سزائیں معطل کرانے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے مئی 2026 میں ان کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سزاؤں کے خلاف مرکزی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر ہو چکی ہیں۔
بعد ازاں دونوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، تاہم عدالت کے دفتر نے درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے واپس کر دی اور بتایا کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعہ 32-A کے تحت متعلقہ فورم وفاقی آئینی عدالت ہے۔
بشریٰ بی بی نے 30 جولائی کو وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کرتے ہوئے طبی اور قانونی بنیادوں پر سزا معطل کرنے کی استدعا کی تھی۔
رواں ماہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قانونی ٹیم کے ارکان نے اپیل کی جلد سماعت کے لیے بھی رجوع کیا۔ تاہم پیر کو جلد سماعت سے متعلق ایک درخواست مسترد کر دی گئی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ بشریٰ بی بی کی بگڑتی ہوئی بینائی ان کی باقی ماندہ بصارت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔


