پاکستان نے آئی ایم ایف کو مستحق طبقات کے لیے ہدفی ایندھن سبسڈی سے آگاہ کر دیا

0
12

بنکاک (ایم این این)؛ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کو بنکاک میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی اقتصادی پیش رفت، اصلاحاتی ترجیحات اور کم آمدنی والے طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہدفی ایندھن سبسڈی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارت خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق محمد اورنگزیب نے عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں کمزور معاشی طبقات کے تحفظ اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے حکومت کے ہدفی سبسڈی اقدامات سے آگاہ کیا۔

حکومت موٹر سائیکلوں، آٹو رکشوں اور 800 سی سی تک انجن رکھنے والی گاڑیوں کے لیے ایندھن سبسڈی اسکیم متعارف کرا چکی ہے۔ بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی تھی کہ 20 سال تک پرانی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگ چی رکشوں کو بھی اسکیم میں شامل کیا جائے۔

پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) اور 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) پروگراموں کے تحت تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔

رواں ماہ ای ایف ایف کے چوتھے اور آر ایس ایف کے تیسرے جائزے کے بعد دونوں فریقین کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا، جس سے ضروری منظوریوں سے مشروط تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی مالی معاونت حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔

محمد اورنگزیب اور نائجل کلارک کی ملاقات 2026 کے عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہوئی۔

وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کی مسلسل معاونت کو سراہتے ہوئے اقتصادی اصلاحات کے لیے مضبوط سیاسی عزم اور ان پر مستقل عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیا۔

وزارت خزانہ کے مطابق انہوں نے عالمی کیپیٹل مارکیٹوں میں پاکستان کی واپسی اور سرمایہ کاروں کی بھرپور شرکت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے زرمبادلہ ذخائر میں بہتری، مسلسل تین سال بنیادی بجٹ سرپلس رہنے اور مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں قرضوں کے تناسب میں کمی کو بھی اجاگر کیا۔

اورنگزیب نے انسانی وسائل، بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات میں سرمایہ کاری کے لیے زرمبادلہ کے مناسب ذخائر برقرار رکھنے اور محصولات میں اضافے سے متعلق نائجل کلارک کی تجاویز کو بھی اہم قرار دیا۔

ملاقات میں پائیدار اقتصادی ترقی، پالیسیوں میں تسلسل اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے صحت اور تعلیم کے اخراجات کے تحفظ پر بھی گفتگو ہوئی۔

اس سے قبل منگل کو آئی ایم ایف نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے باعث پیدا ہونے والے عالمی توانائی بحران کے تناظر میں ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ محدود اور مستحق طبقات تک مرکوز سبسڈی فراہم کریں۔

اورنگزیب کی امریکی عہدیدار سے ایندھن کی فراہمی اور تجارت پر گفتگو
وزارت خزانہ کے ایک علیحدہ بیان کے مطابق محمد اورنگزیب نے امریکی محکمہ خارجہ کے سفیر ہیوگو یون سے بھی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ اقتصادی تعاون، تجارت اور توانائی کے ذرائع میں تنوع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بیان کے مطابق دونوں فریقین نے تجارتی فریم ورک معاہدے کی تیاری میں پیش رفت کا جائزہ لیا اور امریکہ سے توانائی کی درآمدات بڑھانے کے امکانات پر گفتگو کی۔ وزیر خزانہ نے ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے اور کمزور معاشی طبقات کو ریلیف دینے کے حکومتی اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

ملاقات میں منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق اقدامات اور امریکی ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے مالی معاونت کے امکانات پر بھی بات ہوئی۔

محمد اورنگزیب نے ریکوڈک منصوبے، اہم معدنیات کے شعبے میں تعاون، منصوبوں کی سکیورٹی اور نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے مواقع کو بھی اجاگر کیا۔

بیان کے مطابق بوئنگ طیاروں کی خریداری اور مالی انتظامات، ہوا بازی سے متعلق کلیئرنس، ڈیجیٹل اثاثوں کے ضوابط اور ترسیلات زر و یورو بانڈز کی ٹوکنائزیشن کے ممکنہ استعمال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں