اسلام آباد (ایم این این): قومی اسمبلی اور سینیٹ نے بدھ کو خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے نافذ کی گئی ایمرجنسی کی منظوری دے دی، جبکہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جمعرات کو طلب کر لیا۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق مشترکہ اجلاس صبح 11 بجے ہوگا۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی ثناء اللہ مستی خیل اور داوڑ کنڈی کے پروڈکشن آرڈرز بھی جاری کیے ہیں تاکہ اجلاس میں ان کی شرکت یقینی بنائی جا سکے۔
وفاقی حکومت نے اتوار کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کے ساتھ ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا۔ وفاقی حکومت نے اس اقدام کی وجہ صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں سے مبینہ طور پر دانستہ لاتعلقی اختیار کرنا قرار دی تھی۔ یہ فیصلہ وفاق اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری سیاسی کشیدگی اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سامنے آیا تھا۔ پی ٹی آئی کا مطالبہ اپنے بانی عمران خان کی رہائی ہے۔
وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے دونوں ایوانوں میں متعلقہ قراردادیں پیش کیں۔
سینیٹ میں ہنگامہ خیز بحث، پی ٹی آئی ارکان کا واک آؤٹ
سینیٹ نے حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کے درمیان گرما گرم بحث کے بعد ایمرجنسی کی قرارداد منظور کر لی، جبکہ پی ٹی آئی سینیٹرز نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے حکومتی اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت اور سینیٹ کے قواعد کے مطابق پیش کی گئی۔ ان کا مؤقف تھا کہ آئینی ضرورت کے تحت پیش کی جانے والی قرارداد پر سات روزہ نوٹس کی شرط لاگو نہیں ہوتی۔
اپوزیشن ارکان نے فیصلے کے پس منظر اور حکومتی ارادوں پر سوالات اٹھائے۔ پی ٹی آئی سینیٹر ہمایوں مہمند نے الزام لگایا کہ گورنر راج کا فیصلہ کئی ماہ پہلے کر لیا گیا تھا اور دہشت گردی کو پی ٹی آئی کے خلاف کارروائی کے لیے جواز بنایا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ سینیٹر حامد خان نے وفاق اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کو عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے 26ویں آئینی ترمیم کے بعد آئینی اور عدالتی آزادی کی صورتحال پر بھی تنقید کی۔
پی ٹی آئی سینیٹر محسن عزیز اور ذیشان خانزادہ نے بھی ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کی۔ محسن عزیز نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق بے روزگاری، غربت اور اسپتالوں، صاف پانی اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتوں کی کمی بھی صوبے کے مسائل میں شامل ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اعتراض کیا کہ گورنر راج کے خلاف اپوزیشن کی قرارداد ایجنڈے میں شامل نہیں کی گئی اور ارکان کو متعلقہ دستاویزات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔
قومی اسمبلی سے ایمرجنسی کی قرارداد منظور
قومی اسمبلی نے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے بحث کا آغاز کیے جانے کے بعد اکثریتی ووٹ سے ایمرجنسی کی قرارداد منظور کر لی۔ ایوان نے آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صدر کی جانب سے 11 اکتوبر کو جاری کردہ اعلانِ ایمرجنسی کی توثیق کی۔
وفاقی وزرا نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ تارڑ نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں 2021 سے 2024 کے دوران دہشت گردی کے 2,911 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 15 اکتوبر 2025 سے 9 اکتوبر 2026 تک یہ تعداد بڑھ کر 3,787 ہو گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی شرکت کی اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے مصافحہ کیا۔ اسپیکر ایاز صادق نے 3 اکتوبر کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں نے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی، تاہم اتفاق رائے نہ ہو سکا۔
اسپیکر نے کہا کہ اگر مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے تو متعلقہ کمیٹیاں بحال کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی بانی عمران خان کی جیل میں سہولتوں سے متعلق پارٹی کے تحفظات کا بھی ذکر کیا۔
بلاول کی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اپیل
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایمرجنسی کو مشکل مگر آئینی بنیادوں پر کیا گیا فیصلہ قرار دیا۔ انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال کا ذمہ دار پی ٹی آئی کو ٹھہراتے ہوئے پارٹی کے طرزِ عمل کو اپنی ہی صوبائی حکومت پر ’’سیاسی خودکش حملہ‘‘ قرار دیا۔
بلاول کے مطابق مذاکرات معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق ہونے کا امکان تھا، تاہم بات چیت بالآخر ناکام ہو گئی۔
پی ٹی آئی پر تنقید کے باوجود بلاول نے حکومت اور اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کا راستہ دوبارہ اختیار کریں اور کسی درمیانی حل تک پہنچنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی مستقل حل نہیں بلکہ عارضی اقدام ہے، جبکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پورے ملک کی مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ایمرجنسی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات قومی ایکشن پلان کے تحت کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے عمران خان کے اہل خانہ اور پی ٹی آئی ارکان کی گرفتاریوں پر سوال اٹھائے اور ان ارکان اسمبلی کو ایوان میں پیش کرنے کا مطالبہ کیا جنہیں پارٹی کے مطابق حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے مذاکرات جاری رکھنے کی بلاول کی تجویز کا خیرمقدم بھی کیا۔
حکومتی وزرا اور اپوزیشن میں الزامات کا تبادلہ
وزیر دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی سابقہ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ارکان کی واپسی اور آبادکاری کی تجویز کا حوالہ دیا۔ انہوں نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ اپنے ماضی کے اقدامات کا جائزہ لے اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کو سیاسی محاذ آرائی پر ترجیح دے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے وفاقی حکومت کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے اسے مشکل مگر ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کی کھل کر مذمت کرے اور سوال اٹھایا کہ آیا خیبر پختونخوا حکومت نے دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کافی اقدامات کیے ہیں۔
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے 2024 کے عام انتخابات کے بعد قائم ہونے والے حکومتی اتحاد کے مینڈیٹ پر سوال اٹھایا اور دہشت گردی سے متعلق حکومتی مؤقف پر تنقید کی۔
قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ 16 اکتوبر کو صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا، جبکہ گورنر راج کے اعلان پر غور کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جمعرات کو ہوگا۔


