صنعاء/ریاض (ایم این این): یمن کے حوثی باغیوں نے بدھ کے روز سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ سعودی حکام نے دمام کے قریب ظہران میں آرامکو کی ایک عمارت پر حملے اور دارالحکومت ریاض میں دھماکوں کی اطلاع دی ہے۔
حوثیوں کے خلاف کارروائی کرنے والے سعودی قیادت کے اتحاد نے کہا کہ اس نے ریاض کی جانب داغا گیا ایک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ دوسری جانب ریاض کے شہریوں کو موبائل فون پر فضائی خطرے سے متعلق الرٹ موصول ہوئے، جن میں محفوظ مقامات پر پناہ لینے کی ہدایت کی گئی۔ چند منٹ بعد یہ الرٹ واپس لے لیا گیا۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا کہ ان کی فورسز نے ظہران میں آرامکو، ریاض کے ہوائی اڈے اور سعودی دارالحکومت کی ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق کارروائی میں بڑی تعداد میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے علاوہ ڈرونز استعمال کیے گئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آنے والے دنوں میں سعودی ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کے خلاف مزید کارروائیاں کی جائیں گی۔
اس سے قبل سعودی وزارتِ توانائی کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی تھی کہ ظہران میں آرامکو کی ایک عمارت پر حملہ ہوا، جس سے محدود پیمانے پر آگ لگی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ظہران میں آرامکو کا مرکزی دفتر اور دفاتر و رہائشی عمارتوں پر مشتمل وسیع کمپلیکس واقع ہے۔
حالیہ حملوں سے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ سعودی عرب کو گزشتہ چند روز سے مسلسل حملوں کا سامنا ہے، جبکہ اس نے یمن کے دارالحکومت صنعاء میں حوثیوں کے مضبوط ٹھکانوں پر جوابی حملے کیے ہیں۔
سعودی اتحاد کے یمن میں حملے
دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے مغربی یمن میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق ان مقامات کو ایسی سرگرمیوں میں استعمال کیا جا رہا تھا جن کا مقصد سعودی عرب، یمن، بحیرہ احمر کے جنوبی حصے اور اہم بحری گزرگاہوں کے لیے خطرات پیدا کرنا تھا۔
صنعاء میں دھماکے کی اطلاع بھی ملی، جبکہ حوثیوں سے وابستہ ٹی وی چینل المسیرہ نے ایک آئل کمپنی کو نشانہ بنائے جانے کی خبر دی۔ ایندھن کی قلت کے خدشے کے باعث حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں شہریوں کی بڑی تعداد پٹرول پمپوں کے باہر قطاروں میں کھڑی دکھائی دی۔
سعودی قیادت کا اتحاد 2015 سے یمن کی حکومت کی حوثیوں کے خلاف فوجی مدد کر رہا ہے۔ اس طویل خانہ جنگی نے ملک میں سنگین انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔
خطے میں سکیورٹی خدشات بڑھ گئے
یہ تازہ کشیدگی ہفتے کے روز ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے بعد سامنے آئی ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق اس حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے، جسے 2015 کے بعد سعودی عرب پر بدترین حملہ قرار دیا گیا۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیرِ صدارت سعودی کابینہ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ مملکت کی سلامتی اور بحیرہ احمر سمیت آبنائے باب المندب میں آزادانہ جہاز رانی کو خطرے میں نہیں پڑنے دیا جائے گا۔
متعدد ممالک نے سعودی عرب میں موجود اپنے شہریوں کے لیے سفری ہدایات جاری کی ہیں۔ فرانس نے منگل کو اپنے شہریوں کو ریاض، جدہ اور دمام کے ہوائی اڈوں سے گریز کرنے کا مشورہ دیا۔ ادھر ریاض میں ٹریفک نسبتاً کم رہی، کیونکہ تعلیمی اداروں نے آن لائن تدریس اور بعض کمپنیوں نے گھر سے کام کرنے کے انتظامات کیے ہیں۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی سعودی معیشت پر بھی دباؤ ڈال رہی ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پیش گوئی کی ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور علاقائی اقتصادی بے یقینی کے باعث سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار رواں سال 3.3 فیصد سکڑ سکتی ہے۔
یمن میں جولائی سے دوبارہ شدت اختیار کرنے والی لڑائی اب سعودی سرزمین تک پھیلتی دکھائی دے رہی ہے۔ حوثی حملوں میں بحیرہ احمر میں تیل بردار جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جو سعودی تیل کی برآمدات کے لیے ایک متبادل بحری راستہ ہے۔


