خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری، اپوزیشن کا شدید احتجاج

0
8

اسلام آباد (MNN)؛ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے جمعرات کو خیبرپختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے فیصلے کی منظوری دے دی، جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سمیت اپوزیشن ارکان نے شدید احتجاج کیا۔

اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی اور آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج سے متعلق الگ الگ قراردادوں پر غور کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے ان اقدامات کو سکیورٹی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ضروری قرار دیا، جبکہ اپوزیشن نے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر عائد الزامات کی مخالفت کی۔

وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو ان اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں سے دانستہ طور پر لاتعلقی اختیار کی۔ یہ فیصلہ مرکز اور پی ٹی آئی کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری سیاسی کشیدگی اور مذاکرات میں ناکامی کے بعد کیا گیا۔ پی ٹی آئی نے اپنے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان بھی کیا تھا۔

جمعرات کو مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ’’ایمرجنسی نامنظور‘‘ کے نعرے درج تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کے ایک حصے میں شرکت کی اور اپوزیشن رہنماؤں سے مصافحہ بھی کیا۔

وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق اعلانات اور قراردادیں پیش کیں۔ کئی گھنٹوں کی بحث کے بعد قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے دونوں قراردادوں کو رائے شماری کے لیے پیش کیا، جنہیں منظور کرلیا گیا۔

اجلاس کے آغاز میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے قواعد 1973 کے بعض ذیلی قواعد معطل کرنے کی تحریک بھی پیش کی گئی، جسے 214 کے مقابلے میں 56 ووٹوں سے منظور کیا گیا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قراردادوں کی منظوری کے آئینی طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں معاملات میں مجموعی ارکان کی اکثریت درکار تھی۔ اجلاس میں پشاور میں اسکول کی چھت گرنے سے جاں بحق ہونے والے 29 افراد، جن میں 28 طلبہ شامل تھے، کے لیے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔

محسن نقوی کا مؤقف: وفاق کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا تھا

وزیر داخلہ محسن نقوی نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے سے پہلے دیگر راستے اختیار کرنے کی کوشش کی تھی۔

انہوں نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا کہ مذاکرات سے متعلق حقائق کو درست انداز میں بیان کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ 3 اکتوبر کو ہونے والے مذاکرات کے دوران حکومتی وفد نے بات چیت اچانک ختم نہیں کی تھی۔

محسن نقوی کے مطابق وفاق نے خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات میں موجود پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر معاہدے پر دستخط کے لیے تیار تھے، تاہم انہیں پہلے صوبائی حکومت سے مشاورت کا مشورہ دیا گیا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ مذاکرات میں شریک افراد دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے واضح مؤقف رکھتے تھے۔ تاہم انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ سکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں شریک نہیں ہوئے اور سیاسی مشکلات کا حوالہ دیتے رہے۔

محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبائی پولیس کو مضبوط بنانے اور صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلانے سمیت متعدد اقدامات کے ذریعے تعاون کی کوشش کی۔

انہوں نے زور دیا کہ وفاق اور صوبے کی مختلف پالیسیوں کے تحت دہشت گردی کے خلاف مؤثر جنگ نہیں لڑی جاسکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی سیاسی جماعت پر بلاجواز دہشت گردی کی حمایت کا الزام نہیں لگانا چاہیے، تاہم کوتاہیوں کی نشاندہی ہونے پر ان کی اصلاح ضروری ہے۔

پی ٹی آئی نے دہشت گردی کی حمایت کے الزامات مسترد کردیے

پی ٹی آئی کے عبوری چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ملک کی صورت حال کو نازک قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی اور خیبرپختونخوا حکومت پر دہشت گردوں کی حمایت کے الزامات کی مذمت کی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم خیبرپختونخوا کے عوام اور پی ٹی آئی سے معافی مانگیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے الزامات سے عالمی سطح پر یہ تاثر جاتا ہے کہ پاکستان کا ایک صوبہ دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہا ہے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پی ٹی آئی حکومت اور مسلح افواج کے ساتھ کھڑی تھی، لیکن اب اسی جماعت کو دہشت گردوں کا حامی قرار دیا جارہا ہے۔

انہوں نے ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار میں واپسی پر پی ٹی آئی ملک کو مضبوط بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے گی۔

بیرسٹر گوہر نے سکیورٹی اہلکاروں کی نماز جنازہ میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی عدم شرکت کے الزامات بھی مسترد کیے اور کہا کہ ان کی جماعت اپنے مطالبات تسلیم کیے جانے کی صورت میں حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

اسحاق ڈار نے فیصلے کا دفاع کردیا

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلے کو مشکل مگر آئینی قرار دیا۔

انہوں نے پشاور میں 2014 کے آرمی پبلک اسکول حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعد نیشنل ایکشن پلان سمیت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے۔ ان کے مطابق آپریشن ضربِ عضب اور آپریشن ردالفساد کے نتیجے میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں کمی آئی تھی۔

اسحاق ڈار نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے بعض افراد ملک میں دہشت گردی کے دوبارہ بڑھنے کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مفادات کی خاطر ماضی کی غلطیاں دہرانے کے بجائے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو ترجیح دینی چاہیے۔

انہوں نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال کے دوران صوبائی حکومت کی کارکردگی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 11 اکتوبر کے وفاقی کابینہ اجلاس میں صورت حال سے فوری طور پر نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

محمود اچکزئی کا مذاکرات پر زور

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے موجودہ صورت حال کا ذمہ دار حکمرانوں کے مبینہ غلط فیصلوں کو قرار دیا۔

انہوں نے سہیل آفریدی کے بارے میں سوال اٹھایا، جنہیں اطلاعات کے مطابق حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا، اور قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کے اجلاس چلانے کے طریقہ کار پر بھی تنقید کی۔

محمود اچکزئی نے کہا کہ اپوزیشن پارلیمنٹ کو بااختیار بنانے اور ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے سمیت اہم معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بات چیت ان امور پر ہو تو اپوزیشن غیر مشروط حمایت فراہم کرے گی۔

انہوں نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی اپنے اہل خانہ، دوستوں اور پارٹی کارکنوں سے ملاقاتوں کا مطالبہ بھی کیا۔

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے الزام لگایا کہ حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کو ناکام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ فریقین کو معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید وقت دیا جانا چاہیے تھا اور سیاسی قیادت کو الزام تراشی کے بجائے عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔

پیپلز پارٹی نے مذاکرات سے متعلق پی ٹی آئی کے مؤقف پر اختلاف کیا

پیپلز پارٹی کی نائب صدر شیری رحمان نے 3 اکتوبر کے مذاکرات کے بارے میں پی ٹی آئی کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی وفد مزید بات چیت کے لیے موجود تھا۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہمیشہ مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے حامی رہے ہیں، تاہم دہشت گردی ان کے لیے ناقابلِ قبول معاملہ ہے۔

شیری رحمان کے مطابق حکومتی وفد نے مذاکرات ختم کرکے جانے کا اعلان نہیں کیا تھا بلکہ وہ صبح تک بات چیت جاری رکھنے کے لیے تیار تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پیپلز پارٹی آئین کے خلاف کسی بھی قسم کی ایمرجنسی کی حمایت نہیں کرے گی۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق نے بھی مذاکرات جاری رہنے کے دوران پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ آگے بڑھانے کے فیصلے پر سوال اٹھایا۔

جے یو آئی (ف) نے شواہد کی عدم موجودگی پر اعتراض کردیا

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے جواز میں پارلیمنٹ کے سامنے مطلوبہ دستاویزی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

ان کے مطابق آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت گورنر کی رپورٹ ضروری تھی جس میں گورنر راج کی ضرورت کی وضاحت کی جاتی، تاہم گورنر فیصل کریم کنڈی نے پارلیمنٹ کے سامنے ایسی رپورٹ پیش نہیں کی۔

کامران مرتضیٰ نے بلوچستان کی سنگین سکیورٹی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ وہاں ایمرجنسی نافذ کیوں نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے سیاسی مسائل کا پائیدار حل آزادانہ اور شفاف انتخابات ہیں، جن کا انعقاد غیر جانب دار الیکشن کمیشن کے تحت ہونا چاہیے۔

یشن کے تحت ہونا چاہیے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں