پشاور/اسلام آباد (MNN)؛ پشاور کے علاقے افریدی آباد میں جمعرات کو ایک اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 31 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں 30 طلبہ اور ایک خاتون ٹیچر شامل ہیں۔ افسوسناک واقعے کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں جبکہ حکام نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے جامع تحقیقات کا حکم دے دیا۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال (ایل آر ایچ) کے ترجمان کے مطابق حادثے کے بعد مجموعی طور پر 61 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے 30 کو طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے بتایا کہ بالائی منزل کی چھت نیچے واقع کلاس روم پر گرنے سے عمارت کا ڈھانچہ منہدم ہوگیا اور بچے ملبے تلے دب گئے۔
پشاور کے ڈپٹی کمشنر آفاق وزیر نے بعدازاں تصدیق کی کہ ملبہ ہٹانے اور زخمی بچوں کی تلاش مکمل ہونے کے بعد امدادی آپریشن ختم کردیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد لیڈی ریڈنگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی۔
متاثرہ تعلیمی ادارے کی شناخت الخیر اسکول کے نام سے ہوئی ہے۔ کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر ڈاکٹر میاں سعید احمد کے مطابق عمارت کا ڈھانچہ کمزور تھا اور چھت پر اضافی تعمیرات کے بوجھ نے حادثے میں اہم کردار ادا کیا۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر اسکول پہنچنے والے ایک والد سمیع اللہ نے بتایا کہ انہوں نے ملبے سے تین کم عمر بچیوں کو نکالا۔ انہیں خدشہ تھا کہ ان کا بیٹا بھی جاں بحق ہوگیا ہے، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ وہ پانی پینے کے لیے کلاس روم سے باہر گیا ہوا تھا۔ مقامی افراد نے بھی بچوں کو ملبے سے نکالنے میں مدد کی۔
جاپانی سفیر کا پشاور سانحے پر اظہارِ تعزیت
پاکستان میں جاپان کے سفیر عزت مآب جناب شوچی اکاماتسو نے پشاور میں اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہونے والے بچوں اور خاتون ٹیچر کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد سے 15 اکتوبر 2026 کو جاری تعزیتی پیغام میں جاپانی سفیر نے کہا:
’’پشاور کے ایک نجی اسکول کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے پر ہمیں گہرا دکھ پہنچا ہے۔ ہم جاں بحق ہونے والے بچوں اور ٹیچر کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔ ہماری ہمدردیاں اس سانحے سے متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہیں۔‘‘
جاپانی سفیر کے پیغام میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات پیش کی گئیں۔
گورنر خیبرپختونخوا کا تحقیقات اور حفاظتی آڈٹ کا حکم
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمی بچوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ گورنر نے صوبے بھر کے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا ساختی حفاظتی آڈٹ کرانے کا حکم بھی دیا تاکہ ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرکے فوری اصلاحی اقدامات کیے جاسکیں۔
جاں بحق افراد کی نماز جنازہ میں شرکت کے بعد گورنر نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ اسکول کو عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ (این او سی) کس نے جاری کیا تھا۔
گورنر نے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے فی خاندان 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے دو لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا۔ انہوں نے شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی بھی کرائی۔
دوسری جانب محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے واقعے کی وجوہات معلوم کرنے اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے سفارشات مرتب کرنے کی غرض سے تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی۔
انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے پشاور کے سی سی پی او کو امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی ہدایت کی۔ ٹریفک پولیس کو ایمبولینسوں کی بلا تعطل آمدورفت یقینی بنانے کے لیے گرین کوریڈور قائم کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا نوٹس، جامع رپورٹ طلب
وزیراعظم شہباز شریف نے پشاور اسکول حادثے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی جامع رپورٹ طلب کرلی۔
وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے گورنر فیصل کریم کنڈی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جاں بحق بچوں اور ٹیچر کے لواحقین سے تعزیت کی اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
گورنر نے وزیراعظم کو بتایا کہ اسکول مالک کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ حادثے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ بچوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع پورے ملک کے لیے ایک بڑا سانحہ ہے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں بچوں کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی واقعے پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے جامع تحقیقات اور تعلیمی اداروں کی عمارتوں میں حفاظتی معیارات پر عمل درآمد یقینی بنانے پر زور دیا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور رکن قومی اسمبلی عاصفہ بھٹو زرداری نے بھی متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے تعین اور اسکولوں میں حفاظتی انتظامات بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔
یونیسف اور انسانی حقوق کمیشن کا احتساب کا مطالبہ
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے پشاور سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔ پاکستان میں یونیسف کی نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ نے کہا کہ ادارہ متاثرہ بچوں، خاندانوں اور کمیونٹیز کو نفسیاتی و سماجی معاونت فراہم کرنے کے لیے حکومتی کوششوں میں تعاون کے لیے تیار ہے۔
یونیسف نے مطالبہ کیا کہ سرکاری اور نجی تمام اسکولوں میں عمارتوں کے حفاظتی معیارات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور باقاعدگی سے معائنہ کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہوسکے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے اس واقعے کو قابلِ انسداد انتظامی ناکامی قرار دیتے ہوئے آزادانہ اور مقررہ مدت میں مکمل ہونے والی تحقیقات، نتائج کو عام کرنے، اسکول مالک اور متعلقہ نگران اداروں کے احتساب، متاثرہ خاندانوں کو معاوضے اور تمام تعلیمی اداروں کے لازمی ساختی حفاظتی آڈٹ کا مطالبہ کیا۔
عمارتیں گرنے کے واقعات نے حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھا دیے
پشاور کے سانحے نے پاکستان میں عمارتوں کی تعمیر اور حفاظتی معیارات پر عمل درآمد کے حوالے سے ایک بار پھر تشویش بڑھا دی ہے۔
رواں سال جون میں لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہوگئے تھے، جبکہ جولائی میں عمرکوٹ کے قریب ایک سرکاری پرائمری اسکول کی بیرونی دیوار گرنے سے تین بچیاں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی تھیں۔
پشاور کے تازہ سانحے کے بعد تعمیراتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد، تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے باقاعدہ معائنے اور غیر محفوظ عمارتوں کو چلانے کی اجازت دینے والوں کے احتساب کے مطالبات زور پکڑ گئے ہیں۔


