پیرس (ایم این این): فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کے خلاف ہفتے کے روز ملک گیر مظاہروں کے دوران پیرس سمیت متعدد شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان پُرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ ایک مظاہر کی ہتھیلی دھماکے سے اڑ گئی، متعدد مقامات پر آگ لگائی گئی جبکہ درجنوں دکانوں میں لوٹ مار کے واقعات پیش آئے۔ پولیس نے 130 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔
فرانسیسی ٹریڈ یونین سی جی ٹی کے مطابق ملک بھر میں تقریباً پانچ لاکھ افراد نے مظاہروں میں شرکت کی، تاہم حکام نے فوری طور پر شرکا کی تعداد سے متعلق سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔
پولیس نے پیرس اور دیگر شہروں میں نقاب پوش مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ مظاہرین نے پولیس پر مختلف اشیا پھینکیں اور آتش بازی کے سامان کا استعمال کیا، جبکہ پیرس میں متعدد کھڑی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پولیس کے ایک ذریعے نے بتایا کہ جنوبی شہر سینٹ ایٹین میں ہجوم کو قابو کرنے کے لیے استعمال ہونے والے پولیس گرینیڈ کے دھماکے سے ایک مرد مظاہر کی ہتھیلی اڑ گئی۔
یہ واقعہ 5 اکتوبر کو پیش آنے والے اسی نوعیت کے واقعے کے بعد سامنے آیا ہے، جب لینس شہر میں ایک احتجاج کے دوران پولیس کے اسٹن گرینیڈ کی زد میں آ کر 15 سالہ لڑکے کی ہتھیلی ضائع ہو گئی تھی۔
فرانس کے دیگر شہروں میں بھی تشدد اور توڑ پھوڑ کی اطلاعات ملیں۔ لیون کے مرکزی علاقے میں مظاہرین نے سیاحتی دفتر کو آگ لگا دی، جبکہ مارسی اور للی میں بلدیاتی عمارتوں میں زبردستی داخل ہو کر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
اے ایف پی کے صحافیوں کے مطابق مارسی میں ہرمیس کے ایک بوتیک، للی میں ایپل کے ایک اسٹور، نیس میں متعدد دکانوں اور پیرس میں موبائل فون فروخت کرنے والی کم از کم ایک دکان سمیت درجنوں کاروباری مراکز کو لوٹ لیا گیا۔
پیرس میں 300 سے زائد مظاہرین نے معروف تجارتی شاہراہ شانزے لیزے کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، جہاں عالمی لگژری برانڈز کے بڑے اسٹورز واقع ہیں۔ پولیس نے انہیں روکنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی، جس کے بعد بعض مظاہرین نے پولیس مخالف نعرے لگائے۔
مغربی شہر رین میں تقریباً 20 افراد نے ایک شاپنگ سینٹر کے قریب کوڑے دانوں اور لکڑی کے بڑے تختوں کی مدد سے رکاوٹ کھڑی کر دی۔
کرسٹوف نامی 47 سالہ بڑھئی، جو ماضی میں یلو ویسٹ تحریک کے مظاہروں میں شریک رہ چکے ہیں، نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ حالیہ ہفتوں میں نوجوانوں کے خلاف پولیس کی کارروائیوں پر سخت برہم ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ریاستی جبر کا نشانہ ہمارے اپنے بچوں کو بنایا جا رہا ہے۔‘‘
’’میکرون مستعفی ہو جائیں‘‘
اگرچہ زیادہ تر ریلیاں پُرامن رہیں اور ان میں بچوں سمیت مختلف عمر کے افراد اور خاندانوں نے شرکت کی، تاہم بعض مقامات پر نقاب پوش نوجوانوں نے لوٹ مار کی اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں کیں۔
پیرس کے میئر ایمانوئل گریگوئر نے کہا کہ مظاہرین کی بھاری اکثریت پُرامن انداز میں مارچ کرنا چاہتی تھی، تاہم توڑ پھوڑ کے واقعات نے احتجاج کے مقصد کو نقصان پہنچایا۔
پیرس کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں دسیوں ہزار افراد نے مارچ کیا۔ بعض مظاہرین نے ’’سب پولیس سے نفرت کرتے ہیں‘‘ اور ’’میکرون مستعفی ہو جائیں‘‘ کے نعرے لگائے۔
اپنے بیٹے کے ہمراہ احتجاج میں شریک 47 سالہ جولز پیٹریشور نے کہا کہ ابتدا میں مظاہرے کا ماحول پُرامن تھا، لیکن پولیس نے اچانک آنسو گیس استعمال کرنا شروع کر دی، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔
لوئی نامی 19 سالہ مظاہر نے بھی شکایت کی کہ پولیس مظاہروں کے دوران طاقت استعمال کرنے میں جلد بازی کرتی ہے۔ اس کے بقول اب احتجاج کرنا خوف ناک ہوتا جا رہا ہے۔
یلو ویسٹ تحریک نے، جس نے آٹھ سال قبل صدر ایمانوئل میکرون کی جانب سے ایندھن پر ٹیکس بڑھانے کی مجوزہ پالیسی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا، ہفتے کے مظاہروں کو ’’یلو اینڈ یوتھ‘‘ کا نام دیا۔
تحریک نے اساتذہ، طلبہ، مزدوروں، پنشنرز اور کسانوں سے احتجاج میں شرکت کی اپیل کی تھی۔
مظاہروں کی بنیادی وجہ اخراجاتِ زندگی میں اضافہ تھا۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ نے بھی یورپ سمیت مختلف خطوں میں مہنگائی کے دباؤ کو بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔
تاہم مظاہرین نے سیاسی جواب دہی، معاشی عدم مساوات، موسمیاتی تبدیلیوں اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق خدشات بھی اٹھائے۔
18 سالہ ہائی اسکول طالب علم کامل الاہیان نے کہا کہ وہ 2027 کے انتخابات، ان کے بقول جھوٹ بولنے والے سیاست دانوں اور گزشتہ دس برس کے دوران امیر ترین طبقے کی دولت میں اضافے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
50 سالہ اداکارہ ایگنیس نے کہا کہ حکومت موسمیاتی تبدیلی، معیشت اور مساوات سے متعلق مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ 24 سالہ طالبہ آناے کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی بحران کے باعث انہیں اپنے مستقبل کے پائیدار ہونے کی امید نہیں رہی۔
لی پین نے ’فسادیوں‘ کو ذمہ دار قرار دے دیا
میکرون کی جگہ صدارت کے امیدوار سیاسی رہنماؤں نے بھی مظاہروں پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
انتہا پسند دائیں بازو کی صدارتی امیدوار میرین لی پین نے پولیس کی حمایت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لوٹ مار اور پولیس پر حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتہائی بائیں بازو کے گروہوں نے اخراجاتِ زندگی سے متعلق مظاہرین کے مطالبات کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
دوسری جانب انتہائی بائیں بازو کے رہنما ژاں لوک میلانشوں نے ہفتے کی صبح کہا کہ مظاہرے پُرامن انداز میں جاری ہیں۔ انہوں نے ٹیلی وژن نیوز اداروں پر الزام لگایا کہ وہ ملک کے مختلف شہروں میں تشدد کے مناظر کو غیر معمولی طور پر نمایاں کر رہے ہیں۔
بعض مظاہرین نے 1789 کے انقلابِ فرانس سے مماثلت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مارسی میں میئر کے دفاتر میں زبردستی داخلے کے دوران بعض افراد نے ’’ہم انقلاب لا رہے ہیں، ہم باسٹیل پر قبضہ کر رہے ہیں‘‘ کے نعرے لگائے۔
مغربی شہر لا روشیل میں مظاہرین نے ’’انقلاب یا موت‘‘ کے الفاظ پر مشتمل بینر اٹھا رکھا تھا، جبکہ جنوبی شہر مونٹ پیلیئر کے مرکزی چوک میں ’’عوام جیتیں گے‘‘ کے عنوان سے ایک بڑا نیلا بینر لہرایا گیا۔
پیرس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہائی اسکول طلبہ کی نمائندہ تنظیم ایل ایس یو کے سربراہ ریاض رانی نے کہا کہ حکومت کا پریشان ہونا بجا ہے، کیونکہ جب فرانسیسی عوام ناراض ہوتے ہیں تو وہ اپنا احتجاج آسانی سے ختم نہیں کرتے۔


