اسلام آباد (ایم این این)؛ خیبر پختونخوا کے ضلع اپر کرم میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے مختلف مقامات پر افغان طالبان کی جانب سے مبینہ بلااشتعال فائرنگ کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی۔
سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی نیوز اور سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق فائرنگ اپر کرم کے تلدہ (تائیدہ) سیکٹر اور غوزگڑھی کے قریب ہوئی۔ سکیورٹی ذرائع نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان نے غیر ملکی دہشت گردوں کو سرحد پار داخل ہونے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے فائرنگ کی۔
رپورٹس کے مطابق پاک فوج نے بھاری ہتھیاروں اور توپ خانے سے جواب دیتے ہوئے افغان طالبان کی چوکیوں کو نشانہ بنایا، جن میں ٹاپسر (ٹاپسار) پوسٹ اور شیپولا بیس کیمپ شامل تھے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق غوزگڑھی سرحد کے قریب جوابی کارروائی کے دوران افغان طالبان کے متعدد اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، جبکہ شیپولا بیس کیمپ مکمل طور پر تباہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کی کارروائی کے بعد طالبان اہلکار ایک سرحدی چوکی چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
اے پی پی نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ علاقے میں فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا۔ تاہم، ہلاکتوں اور نقصان سے متعلق ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں شامل نہیں تھی۔
پاکستان، افغانستان مذاکرات
سرحدی جھڑپیں ایسے وقت میں ہوئیں جب ایک روز قبل دفتر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات غیر مشروط نہیں ہو سکتے، تاہم پاکستان کابل کے ساتھ بات چیت سے گریز نہیں کر رہا۔
ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان افغان نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے اور دوست ممالک کی جانب سے ایسی سنجیدہ کوششوں کا خیرمقدم کرے گا جو پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات دور کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں۔
ترجمان نے کہا کہ انہیں روس کی جانب سے ثالثی کے لیے کسی علیحدہ اور باضابطہ اقدام کے زیر غور ہونے کا علم نہیں۔ ان کا یہ بیان روس کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کی آمادگی کے اظہار کے بعد سامنے آیا، تاہم اسلام آباد نے کسی باضابطہ اقدام کی موجودگی کی تردید کی تھی۔
دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کی بڑی وجہ پاکستان کے یہ خدشات ہیں کہ عسکریت پسند گروہ افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے اندر حملے کر رہے ہیں۔
پاکستان کی انسداد دہشت گردی کارروائیاں
سرحدی جھڑپوں سے قبل بھی پاکستان افغانستان میں مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کے خلاف متعدد فوجی کارروائیاں کر چکا ہے۔
وزارت اطلاعات نے یکم اکتوبر کو بتایا تھا کہ آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان میں دو مقامات پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے منصوبہ بندی کے تحت فضائی حملے کیے گئے۔ وزارت کے مطابق ان کارروائیوں میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے متعدد عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔
اس سے قبل 21 ستمبر کو خیبر پختونخوا میں بڑے دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان نے افغان سرحدی علاقے میں فضائی کارروائیاں کی تھیں۔ حکومت کے مطابق ان حملوں میں 28 سے زائد دہشت گرد مارے گئے تھے۔
بعد ازاں پاکستان نے اطلاع دی کہ اس نے طورخم سرحد اور کوہاٹ کے قریب پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ ڈرون مار گرائے۔ اسلام آباد کے مطابق ڈرون دراندازی کے جواب میں افغانستان کے 10 مقامات پر درست نشانے کے ساتھ فضائی اور ڈرون حملے کیے گئے۔ دفتر خارجہ نے یہ بھی بتایا تھا کہ 23 ستمبر کو فضائی حدود کی خلاف ورزی پر 26 ستمبر کو افغان حکام کو سفارتی احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔
پاکستان نے فروری 2026 میں افغان طالبان کی مبینہ بلااشتعال سرحد پار فائرنگ کے بعد آپریشن غضب للحق شروع کیا تھا۔ اس سے چند ماہ قبل اکتوبر 2025 میں سرحد کے متعدد مقامات پر جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔
متعدد مذاکراتی ادوار کے باوجود اسلام آباد اور کابل اپنے اختلافات دور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، جبکہ افغانستان میں عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیاں دونوں ممالک کے درمیان تنازع کی بنیادی وجہ بنی ہوئی ہیں۔
پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ
افغان طالبان کے 2021 میں اقتدار میں واپس آنے کے بعد سے پاکستان، خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں، سرحد پار دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کی نشاندہی کرتا رہا ہے۔
اسلام آباد میں قائم آزاد تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں ملک بھر میں دہشت گردی کے 225 حملے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ اگست میں یہ تعداد 199 تھی۔ یوں حملوں میں 13 فیصد اضافہ ہوا اور یہ مسلسل تیسرا مہینہ تھا جب حملوں کی تعداد بڑھی۔
رپورٹ میں شامل اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں حملوں کی تعداد گزشتہ 12 برس کے دوران کسی ایک مہینے میں سب سے زیادہ تھی۔
پاکستان مسلسل افغان حکام سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ عسکریت پسند گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں سے روکیں۔ زیرِ حوالہ رپورٹس میں تازہ سرحدی واقعے پر افغان طالبان کا مؤقف شامل نہیں تھا۔


