امریکی ڈاک ٹکٹ فراڈ کیس: این سی سی آئی اے نے مرکزی ملزم کو لاہور سے گرفتار کر لیا

0
5

لاہور (ایم این این)؛ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے منگل کو جعلی امریکی ڈاک ٹکٹوں اور ڈاک کی ادائیگی کے لیبلز کی آن لائن فروخت سے متعلق مبینہ بین الاقوامی فراڈ کیس کے مرکزی ملزم کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس معاملے میں امریکی پوسٹل سروس کو 126 ملین ڈالر سے زائد نقصان پہنچنے کا الزام ہے۔

امریکی ریاست فلوریڈا کے سدرن ڈسٹرکٹ کے اٹارنی آفس نے اس سے قبل ملزم کی شناخت خانیوال سے تعلق رکھنے والے 33 سالہ شخص کے طور پر کی تھی۔ گزشتہ ماہ جاری کیے گئے بیان کے مطابق اس پر ایک غیر مجاز ویب سائٹ چلانے کا الزام ہے، جس کے ذریعے مبینہ طور پر 50 لاکھ سے زائد جعلی امریکی ڈاک کے لیبل فروخت کیے گئے۔

این سی سی آئی اے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزم نے مبینہ طور پر اگست 2023 سے ستمبر 2026 تک LabelsBank.com کے نام سے ویب سائٹ چلائی اور تین سال کے دوران جعلی ڈاک کے لیبلز کی آن لائن تشہیر اور فروخت کی۔

عاطف امیر کے مطابق ویب سائٹ کے ذریعے 50 لاکھ سے زائد ڈاک کے لیبل تقریباً دو ڈالر فی لیبل کے حساب سے فروخت کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مبینہ لین دین کی مجموعی مالیت کا تخمینہ تقریباً 35 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ادارہ اس کاروبار سے حاصل ہونے والی رقم وصول کرنے اور اسے مختلف ذرائع سے منتقل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے مالیاتی چینلز کی بھی تحقیقات کر رہا ہے۔

16 بینک اکاؤنٹس کی چھان بین

لاہور این سی سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر وقاص سعید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عاطف امیر نے بتایا کہ مبینہ فراڈ سے منسلک 16 بینک اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں سے سات اکاؤنٹس ملزم، پانچ اس کے بھائی، دو اس کی اہلیہ جبکہ ایک ایک اکاؤنٹ اس کی بہن اور خالہ کے زیر استعمال تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ملزم کا سراغ لگانے اور مبینہ نیٹ ورک کی تحقیقات کے لیے پنجاب، اسلام آباد اور سندھ میں آٹھ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ ان ٹیموں نے 35 مقامات پر چھاپے مارے اور تحقیقات کے سلسلے میں 47 افراد سے پوچھ گچھ کی۔

ان کے مطابق تفتیش کاروں نے ملزم کی نقل و حرکت کا پتا لگانے اور مبینہ کارروائی سے وابستہ افراد کی نشاندہی کے لیے ڈیجیٹل اور فرانزک طریقے بھی استعمال کیے۔

عاطف امیر نے کہا کہ تحقیقات کے دوران 122 کال ڈیٹا ریکارڈز، 50 آئی ایم ای آئی ٹریکنگ رپورٹس اور 120 کیمروں کی آڈیو و ویڈیو ریکارڈنگز کا تجزیہ کیا گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مصنوعی ذہانت سمیت جدید تکنیکی ذرائع بھی استعمال کیے گئے، جبکہ ملزم کے مقام اور سرگرمیوں کا سراغ لگانے کے لیے دس روز تک لوکیٹر آپریشن جاری رہا۔

مالیاتی نیٹ ورک اور دیگر افراد کا کردار زیرِ تفتیش

این سی سی آئی اے کے مطابق تحقیقات کا اہم پہلو جعلی ڈاک کے لیبلز کی مبینہ آن لائن فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کا سراغ لگانا ہے۔

ادارہ 16 بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ہونے والی لین دین کی جانچ کر رہا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ملزم اور اس کے رشتہ داروں سے منسوب اکاؤنٹس کے درمیان رقوم کس طرح منتقل ہوئیں۔

عاطف امیر کے مطابق خاندان کے افراد کے ممکنہ کردار کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں، بالخصوص یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ آیا ان کے بینک اکاؤنٹس مبینہ آن لائن کاروبار کے لیے استعمال ہوئے۔

ویب سائٹ چلانے، آرڈرز کی کارروائی، ادائیگیاں وصول کرنے یا جعلی ڈاک کے لیبل تقسیم کرنے میں ممکنہ طور پر ملوث دیگر افراد کا کردار بھی زیرِ تفتیش ہے۔

انہوں نے کہا کہ تفتیش کار مبینہ کاروبار کے مکمل حجم اور لین دین کی اصل تعداد اور مالیت کی تصدیق کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں