کراچی (ایم این این): تاجر میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے پولیس کی تفتیش کو ’’انتہائی ناکامی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دستیاب شواہد خودکشی کے امکان کو مسترد کرتے اور قتل کی نشاندہی کرتے ہیں۔
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم عدالتی کمیشن کی 62 صفحات پر مشتمل رپورٹ سندھ حکومت کو پیش کی گئی، جسے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا گیا۔
کمیشن نے 15 سماعتوں کے دوران 49 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے اور دستیاب شواہد کا جائزہ لیا۔ تحقیقات کا مقصد میر رضا علی کی موت کے حالات، پولیس اور میڈیکو لیگل حکام کی کارروائیوں، ممکنہ غفلت، شواہد میں ردوبدل اور پردہ پوشی کے الزامات کا جائزہ لینا تھا۔
رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا کہ ’’یہ قتل تھا۔‘‘ کمیشن کے مطابق گولی کی سمت، زخم کی غیر معمولی جگہ، خون کی عدم موجودگی، لاش کی حالت، تیزاب سے جلنے کے نشانات اور خون میں بے ہوشی کی دوا کی موجودگی جیسے شواہد خودکشی کے مفروضے سے مطابقت نہیں رکھتے۔
کمیشن نے قرار دیا کہ پولیس نے تفتیش کے لیے ضروری قانونی اور پیشہ ورانہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کی، جس سے مقدمے کو عدالت میں کامیابی سے ثابت کرنے کے امکانات متاثر ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق لاش ملنے کی اطلاع پر پولیس کا ابتدائی ردعمل فوری تھا، تاہم اس کے بعد کی تحقیقات مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اتریں۔
کمیشن نے مناسب تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے پولیس کی جانب سے نتائج جاری کرنے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ تفتیش کاروں نے اس پہلو کا جائزہ لینے کی بنیادی ذمہ داری پوری نہیں کی کہ آیا مقتول کو خودکشی کی طرف دھکیلنے میں جبر، بلیک میلنگ یا اکسانے کا کوئی کردار تھا۔
پولیس کی غفلت اور ممکنہ پردہ پوشی
رپورٹ میں پولیس کی قیادت، نگرانی، شواہد جمع کرنے اور انہیں تحریری ریکارڈ کا حصہ بنانے میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ کمیشن کے مطابق درجنوں مجاز اور غیر مجاز پولیس اہلکاروں نے شواہد جمع کرنے، اہم افراد سے رابطوں اور پوچھ گچھ میں حصہ لیا، لیکن بیشتر اقدامات کو مناسب طور پر ریکارڈ نہیں کیا گیا۔
کمیشن نے کہا کہ منظم پردہ پوشی کے وقوع پذیر ہونے کا حتمی تعین نہیں کیا جاسکا، تاہم بعض غیر واضح اقدامات اس امکان کو جنم دیتے ہیں۔ رپورٹ میں سینئر افسران کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے مبینہ تفتیشی خامیوں کو تسلیم کرنے اور دور کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔
کمیشن نے تھانہ فیروز آباد کے ایس ایچ او عدیل افضل اور مقدمے کے پہلے تفتیشی افسر سب انسپکٹر شبیر لغاری کے طرز عمل میں مبینہ مجرمانہ غفلت کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں معطل کرنے اور محکمانہ کارروائی کی سفارش کی۔ انسپکٹر غوث کے معاملے میں بھی مجرمانہ غفلت کی نشاندہی کی گئی، تاہم ان کے خلاف مخصوص کارروائی کی سفارش نہیں کی گئی۔
رپورٹ میں ڈی آئی جی فرخ لنجر اور ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کے حوالے سے قیادت اور نگرانی کی کمی کی نشاندہی کی گئی۔ کمیشن نے ابتدائی میڈیکو لیگل معائنہ کرنے والے ڈاکٹر اسامہ شیخ کے طرز عمل پر بھی تنقید کی اور اسے غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے سفارش کی کہ مزید میڈیکو لیگل ذمہ داریاں دینے سے پہلے انہیں سخت علمی اور عملی تربیت فراہم کی جائے۔
خودکشی کے مؤقف اور طبی معائنے پر سوالات
کمیشن نے میر رضا علی کی موت کو خودکشی قرار دینے کے ابتدائی پولیس مؤقف پر سوالات اٹھائے۔ رپورٹ میں علیشاز مشتاق کی جانب سے پولیس کو فراہم کیے گئے وائس نوٹ کو کیس کے مشکوک ترین پہلوؤں میں سے ایک قرار دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق علیشاز مشتاق اور اے ایس پی ندا جنید نے موت کو خودکشی قرار دینے والے پولیس مؤقف کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم وائس نوٹ میں معلومات کے مبینہ ذریعے نے اس بیان کی تصدیق نہیں کی، جس سے فراہم کردہ معلومات کی ساکھ پر سوالات پیدا ہوئے۔
کمیشن نے میر رضا علی کی جانب سے سریم بن طاہر کو مبینہ طور پر 30 ملین روپے طلب کرنے کے لیے بھیجے گئے واٹس ایپ پیغامات کا ذکر کیا۔ رپورٹ کے مطابق ان پیغامات میں غیر معمولی املائی و گرامر کی غلطیاں اور نامکمل الفاظ موجود تھے، جبکہ ان کا انداز شدید گھبراہٹ ظاہر کرتا تھا۔ کمیشن نے کہا کہ یہ صورت حال ممکنہ بلیک میلنگ یا دھمکیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں میر رضا علی کو موت کی رات پستول کے ساتھ دیکھا گیا، تاہم کمیشن نے اسے غیر معمولی قرار دیا۔ مقتول کے قریبی دوستوں اور ساتھیوں نے بتایا کہ وہ پُرامن اور نرم مزاج شخص تھے، اسلحہ نہیں رکھتے تھے اور غالباً پستول چلانے کا طریقہ بھی نہیں جانتے تھے۔ رپورٹ کے وقت تک پستول برآمد نہیں ہوسکا تھا۔
کمیشن نے یہ بھی کہا کہ مقتول کو درپیش معلوم مالی مشکلات بظاہر ایسی نوعیت کی نہیں تھیں جو خودکشی کی وضاحت کرسکیں۔
لاش نکالنے اور دوسرے پوسٹ مارٹم کے لیے قائم میڈیکل بورڈ کی تشکیل میں تبدیلی کا معاملہ بھی رپورٹ میں زیر بحث آیا۔ کمیشن نے راتوں رات بورڈ کی تبدیلی کو غیر معمولی، قانونی طور پر مشکوک اور ناقابل فہم قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق سندھ محکمہ صحت کے سینئر حکام اس اچانک تبدیلی کی معقول وجہ پیش نہیں کرسکے۔
بعد ازاں دوسرے پوسٹ مارٹم میں پہلے معائنے کے نتائج کو خودکشی کے مفروضے سے متضاد قرار دیا گیا۔ لاش نکالنے کے لیے قائم بورڈ نے متفقہ طور پر نتیجہ اخذ کیا کہ میر رضا علی کی موت پشت پر گولی لگنے سے ہوئی۔
عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے جے آئی ٹی کی سفارش
عدالتی کمیشن نے سفارش کی کہ سندھ حکومت ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے، جس میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، پاکستان رینجرز سندھ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سینئر نمائندے بھی شامل ہوں۔
رپورٹ کے مطابق شواہد کا ایک اہم حصہ متاثر ہوچکا ہے اور پولیس کی تحقیقات پر عوامی اعتماد کو نقصان پہنچا ہے، اس لیے غیر جانب دار، جامع اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر تحقیقات ضروری ہیں۔
کمیشن نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کرنے کی بھی سفارش کی تاکہ یہ جائزہ لیا جاسکے کہ آیا ابتدائی دس روز کی تحقیقات میں شامل پولیس اہلکاروں نے شواہد غائب کرنے، سرکاری ملازم کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی یا کسی شخص کو سزا سے بچانے کے لیے غلط سرکاری ریکارڈ تیار کرنے سے متعلق تعزیرات پاکستان کی دفعات کی خلاف ورزی کی۔
رپورٹ میں پولیس پر زور دیا گیا کہ وہ گزشتہ کارروائیوں میں ہونے والی خامیوں کو شفاف انداز میں تسلیم کرے، مناسب طور پر معذرت کرے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف باضابطہ کارروائی شروع کرے۔
کمیشن نے پولیس اصلاحات کی بھی سفارش کی، جن میں جائے وقوعہ کو محفوظ بنانے، میڈیکو لیگل طریقہ کار، شواہد جمع کرنے اور محفوظ رکھنے، ڈیجیٹل ریکارڈ مرتب کرنے، تفتیش کاروں کی تربیت اور کرائم سین یونٹس کی استعداد بڑھانے کے اقدامات شامل ہیں۔ رپورٹ میں ان اصلاحات کے لیے تین ماہ کی مدت تجویز کی گئی، تاہم حتمی فیصلہ صوبائی حکومت کرے گی۔
سندھ حکومت نے عمل درآمد کے لیے کمیٹی قائم کردی
رپورٹ موصول ہونے کے بعد وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے تین رکنی ذیلی کمیٹی قائم کردی۔
کمیٹی کے کنوینر وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار ہوں گے، جبکہ وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ اور وزیر محنت سعید غنی اس کے ارکان ہوں گے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کمیٹی کو قانونی معاونت فراہم کریں گے، جبکہ محکمہ داخلہ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو دفتری معاونت کی ذمہ داری دی گئی ہے۔
کمیٹی اپنی سفارشات جلد وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کرے گی اور انہیں صوبائی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں بھی رکھا جائے گا۔
پس منظر: میر رضا علی کی موت کا معاملہ
25 سالہ تاجر اور انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) کے گریجویٹ میر رضا علی 28 جولائی کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں واقع اپنے گھر سے نکلنے کے بعد لاپتا ہوگئے تھے۔ اگلے روز ان کی لاش گلستان جوہر کے علاقے میں جھاڑیوں سے ملی، جس پر گولی لگنے کے زخم موجود تھے۔
پولیس نے ابتدائی طور پر پہلے پوسٹ مارٹم اور مقتول کے کاروباری نقصان اور قرضوں سے متعلق معلومات کی بنیاد پر موت کو خودکشی قرار دیا تھا۔ تاہم پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر اسامہ شیخ کی جانب سے کیے گئے پہلے پوسٹ مارٹم کے نتائج سے اختلاف کیا۔
لاش نکالنے کے بعد کیے گئے دوسرے پوسٹ مارٹم میں پہلے معائنے کے نتائج کو خودکشی کے امکان سے متضاد قرار دیا گیا۔ میڈیکل بورڈ نے متفقہ طور پر کہا کہ میر رضا علی کی موت پشت پر گولی لگنے سے ہوئی۔
سندھ حکومت نے اگست میں عدالتی کمیشن قائم کیا تھا، جسے موت کے حالات کا تعین کرنے، پولیس اور میڈیکو لیگل تحقیقات کی غیر جانب داری کا جائزہ لینے، ممکنہ غفلت یا بدعنوانی کی نشاندہی کرنے، فرانزک شواہد کا جائزہ لینے اور مزید تحقیقات یا قانونی و محکمانہ کارروائی کے لیے سفارشات پیش کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
کمیشن نے واضح کیا کہ اس کی رپورٹ خود کسی فوجداری تفتیش کا متبادل نہیں اور نہ ہی یہ حتمی طور پر ثابت کرتی ہے کہ کسی مخصوص فرد نے پردہ پوشی میں حصہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق اب اس کیس کو حل کرنے، ذمہ دار افراد کی نشاندہی اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے شفاف، غیر جانب دار اور شواہد پر مبنی تحقیقات ضروری ہیں۔


