از: آصف نوید
راولپنڈی (ایم این این): پاکستان نے ون ڈے سہ ملکی سیریز کے میچ میں انگلینڈ کو 87 رنز سے شکست دے کر شاندار کامیابی حاصل کرلی۔ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں نوجوان بائیں ہاتھ کے اسپنر عرافات منہاس نے بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔
عرافات منہاس نے پہلے مشکل صورتحال میں 59 رنز کی اہم اننگز کھیل کر پاکستان کو 302 رنز تک پہنچانے میں مدد دی، جس کے بعد انہوں نے انگلینڈ کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کرتے ہوئے صرف 40 رنز دے کر چھ وکٹیں حاصل کیں۔ انگلش ٹیم 38.4 اوورز میں 215 رنز پر ڈھیر ہوگئی اور اسے 303 رنز کا ہدف حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
عرافات نے میچ کا اختتام گس ایٹکنسن کو براہ راست تھرو پر رن آؤٹ کرکے کیا اور اپنی یادگار آل راؤنڈ کارکردگی کو شاندار انداز میں مکمل کیا۔
انگلینڈ کی ابتدائی برتری عرافات کی تباہ کن بولنگ سے ختم
303 رنز کے ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ نے پراعتماد آغاز کیا اور ٹام بینٹن اور بین ڈکٹ نے 14.3 اوورز میں بغیر کسی نقصان کے 91 رنز بنا لیے۔ ڈکٹ نے 46 گیندوں پر آٹھ چوکوں کی مدد سے 45 رنز بنائے، جبکہ بینٹن نے 53 گیندوں پر پانچ چوکوں اور دو چھکوں سمیت 57 رنز اسکور کیے۔
حارث رؤف نے ڈکٹ کو فخر زمان کے ہاتھوں ڈیپ فائن لیگ پر کیچ آؤٹ کرا کے اس شراکت کا خاتمہ کیا۔ اس کے بعد عرافات منہاس نے اپنی تیسری گیند پر بینٹن کو آؤٹ کرکے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ بینٹن کا شاٹ سیدھا مڈوکٹ پر موجود شاہین شاہ آفریدی کے ہاتھوں میں چلا گیا۔
عرافات نے انگلش کپتان ہیری بروک کو صرف پانچ رنز پر بولڈ کرکے ایک اور اہم کامیابی حاصل کی اور مہمان ٹیم کا اسکور تین وکٹوں کے نقصان پر 128 رنز کردیا۔
بعد ازاں نسیم شاہ نے جو روٹ کو 35 گیندوں پر 33 رنز بنانے کے بعد بولڈ کردیا۔ گیند تیزی سے نیچی رہی اور آف اسٹمپ سے جا ٹکرائی۔
سام کرن اور جارڈن کاکس نے انگلینڈ کی اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی، تاہم پاکستانی بولرز نے انہیں زیادہ دیر جم کر کھیلنے کا موقع نہ دیا۔ کرن 27 رنز بنانے کے بعد حارث رؤف کی گیند پر متبادل فیلڈر غازی غوری کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے، جبکہ کاکس 18 رنز پر عرافات کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔
عرافات نے جیمی اوورٹن کو ایک رن پر آؤٹ کیا، جبکہ ول جیکس 19 رنز بنانے کے بعد ان کی گیند پر شارٹ مڈوکٹ پر شاہین شاہ آفریدی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔
39ویں اوور میں عرافات نے عادل رشید کو پہلی ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو کرکے اپنی چھ وکٹیں مکمل کیں۔ اس کے بعد گس ایٹکنسن کے رن آؤٹ نے پاکستان کی 87 رنز سے فتح پر مہر ثبت کردی۔
ہیری بروک نے وکٹیں وقفے وقفے سے گرنے کو شکست کی وجہ قرار دیا
انگلینڈ کے کپتان ہیری بروک نے اعتراف کیا کہ ان کی ٹیم نے تعاقب کا اچھا آغاز کیا، لیکن ابتدائی شراکت ٹوٹنے کے بعد وہ مزید مستحکم پارٹنرشپ قائم کرنے میں ناکام رہی۔
بروک نے کہا، ’’بینٹن اور ڈکی نے بہت اچھا آغاز فراہم کیا، لیکن ہماری وکٹیں یکے بعد دیگرے گرتی رہیں۔ ہم کوئی بڑی شراکت قائم نہ کرسکے اور بالآخر ہمیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘
انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستانی اسپنرز کے خلاف انگلینڈ نے ضرورت سے زیادہ محتاط بیٹنگ کی اور مخالف ٹیم پر دباؤ ڈالنے کے مواقع ضائع کردیے۔ بروک کے مطابق ٹیم اپنی خامیوں کا جائزہ لے گی اور اگلے میچ میں بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کرے گی۔
حسن نواز اور عرافات منہاس نے پاکستان کی لڑکھڑاتی اننگز سنبھال لی
پاکستان کی جیت کی بنیاد اس وقت پڑی جب انگلینڈ کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا اور میزبان ٹیم 133 رنز پر پانچ وکٹیں گنوا بیٹھی۔
اس مشکل مرحلے پر حسن نواز اور عرافات منہاس نے چھٹی وکٹ کے لیے 74 گیندوں پر 78 رنز کی اہم شراکت قائم کرکے پاکستان کو بحران سے نکالا اور ایک بڑا مجموعہ ترتیب دینے میں مدد دی۔
حسن نواز نے 74 گیندوں پر پانچ چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے 79 رنز بنائے، جبکہ عرافات منہاس نے 58 گیندوں پر نو چوکوں سمیت 59 رنز اسکور کیے۔
اختتامی اوورز میں فہیم اشرف نے 26 گیندوں پر 39 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی، جبکہ کپتان شاہین شاہ آفریدی نے صرف پانچ گیندوں پر تیز رفتار 10 رنز بنا کر پاکستان کا مجموعہ 300 سے آگے پہنچانے میں مدد دی۔
پاکستان کی اننگز کا آغاز مایوس کن رہا جب گس ایٹکنسن نے فخر زمان کو پہلی ہی گیند پر آؤٹ کردیا۔ فخر کا کیچ جو روٹ نے شارٹ مڈوکٹ پر پکڑا۔ صائم ایوب نے جوابی حملے کی کوشش کی، لیکن وہ آٹھ رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے اور چھٹے اوور میں پاکستان کا اسکور دو وکٹوں کے نقصان پر 31 رنز تھا۔
بابر اعظم نے 52 گیندوں پر 34 رنز بنائے، تاہم ول جیکس نے انہیں بولڈ کردیا۔ اس کے بعد عادل رشید نے سلمان علی آغا کو 16 رنز پر گس ایٹکنسن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرادیا۔ پاکستان 81 رنز پر چار وکٹیں گنوا چکا تھا۔
سعد بیگ اور حسن نواز نے پانچویں وکٹ کے لیے 52 رنز جوڑے، لیکن ایٹکنسن نے دوبارہ حملہ کرتے ہوئے سعد بیگ کو 54 گیندوں پر 35 رنز بنانے کے بعد آؤٹ کردیا۔
اس مرحلے پر حسن نواز اور عرافات منہاس نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کے ساتھ جارحانہ شاٹس کھیلتے ہوئے اننگز کو سنبھالا۔ حسن نے کور اور بیک ورڈ پوائنٹ کے درمیان عمدہ شاٹس کھیلے اور خراب گیندوں کو باؤنڈری سے باہر پہنچایا۔
حسن نواز کی اننگز 40ویں اوور میں 211 کے مجموعی اسکور پر ختم ہوئی، جب جیمی اوورٹن نے انہیں یارکر پر بولڈ کردیا۔
اس کے بعد عرافات نے فہیم اشرف کے ساتھ مل کر اسکور آگے بڑھایا۔ فہیم نے عادل رشید کے خلاف مسلسل دو چوکے اور جو روٹ کی گیند پر چھکا لگایا۔
فہیم اشرف 49ویں اوور میں 39 رنز بنا کر ول جیکس کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے، جبکہ عرافات منہاس 59 رنز بنانے کے بعد سونی بیکر کی گیند پر ہیری بروک کو کیچ دے بیٹھے۔ شاہین شاہ آفریدی کے آخری اوورز میں لگائے گئے باؤنڈریز نے پاکستان کو 302 رنز تک پہنچا دیا۔
عرافات منہاس نے سست پچ کو اسپنرز کے لیے سازگار قرار دے دیا
میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے عرافات منہاس نے کہا کہ گزشتہ میچ کے مقابلے میں اس بار پچ سست تھی، جس سے اسپنرز کو زیادہ مدد ملی۔ انہوں نے بیٹرز کو دھوکا دینے کے لیے گیندوں میں مختلف انداز اور رفتار پیدا کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا، ’’میں نے اپنے منصوبے سادہ رکھے ہیں۔ پہلے میچ میں اسپنرز کو زیادہ مدد نہیں ملی تھی، لیکن آج پچ قدرے سست تھی، جس سے مجھے فائدہ ہوا۔‘‘
عرافات کے مطابق، ’’اسپنر کے لیے گیندوں میں ورائٹی بہت اہم ہوتی ہے، کیونکہ اس سے بیٹرز کو دھوکا دینے میں مدد ملتی ہے۔ میں نے اپنی بولنگ میں مختلف ورائٹیز پر کام کیا ہے۔‘‘
انہوں نے حسن نواز کے ساتھ شراکت کو بھی اہم قرار دیا اور بتایا کہ کریز پر آنے کے بعد دونوں نے فیصلہ کیا تھا کہ وکٹ پر زیادہ دیر ٹھہر کر اننگز کو آگے بڑھانا ہے۔
عرافات نے کہا کہ حسن نواز کے آؤٹ ہونے کے بعد انہوں نے اننگز کو آگے لے جانے کی ذمہ داری سنبھالی اور آخری مرحلے تک بیٹنگ کرنے کی کوشش کی، جس سے پاکستان 300 رنز کا ہندسہ عبور کرنے میں کامیاب ہوا۔
شاہین آفریدی کی عرافات کی تعریف، عالمی کپ کے لیے مثبت پیش رفت قرار
پاکستانی کپتان شاہین شاہ آفریدی نے حسن نواز، عرافات منہاس اور فہیم اشرف کی بیٹنگ کو سراہا، تاہم انہوں نے کہا کہ ٹیم کے ابتدائی بیٹرز کو بھی مستقل مزاجی کے ساتھ اچھی کارکردگی دکھانا ہوگی۔
شاہین نے کہا، ’’حسن نواز، عرافات منہاس اور فہیم اشرف نے بہت اچھی بیٹنگ کی، لیکن ہمیں اپنے ٹاپ آرڈر سے بھی بہتر کارکردگی درکار ہے۔‘‘
انہوں نے عرافات منہاس کو ایک باصلاحیت اور مکمل آل راؤنڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کارکردگی عالمی کپ کی تیاریوں کے تناظر میں پاکستان کے لیے حوصلہ افزا ہے۔
شاہین کے مطابق، ’’عرافات کی فارم اور فاسٹ بولرز کی اچھی کارکردگی ہمارے لیے مثبت اشارے ہیں۔ عرافات بہت باصلاحیت کھلاڑی ہیں اور ایک مکمل آل راؤنڈر ہیں، جو ہماری ٹیم کے لیے خوش آئند بات ہے۔ امید ہے کہ وہ مستقبل میں بھی کئی میچوں میں پاکستان کے لیے عمدہ کارکردگی دکھائیں گے۔‘‘
پاکستانی کپتان نے کامیابی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم نے کئی شعبوں میں اچھا کھیل پیش کیا ہے، تاہم عالمی کپ کی تیاریوں کے لیے مزید بہتری لانا ضروری ہے۔


