اسلام آباد (ایم این این): انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد (IIUI) کی گریجویٹ طالبہ لائبہ اعجاز کے کیس میں اہم ملزم محمد نعمان اپنے ہی مبینہ ساتھیوں کی فائرنگ سے زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گیا۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق مسلح افراد نے ملزم کو پولیس کی تحویل سے چھڑانے کے لیے پولیس ٹیم پر فائرنگ کی تھی۔
ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق تھانہ رمنا کی پولیس ٹیم محمد نعمان کو اس کے انکشافات اور نشاندہی پر شواہد اور دیگر اشیا کی برآمدگی کے لیے لے جا رہی تھی کہ راستے میں دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مبینہ ساتھیوں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔
فائرنگ کے دوران محمد نعمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں سے زخمی ہوگیا۔ اسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق اہلکار بلٹ پروف جیکٹس اور دیگر حفاظتی اقدامات کے باعث محفوظ رہے۔ واقعے میں ملوث دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشنز جاری ہیں۔
پس منظر: امریکی ویزے اور یونیورسٹی میں داخلے کے نام پر مبینہ فراڈ
روزنامہ ڈان، جیو نیوز اور پاکستان ٹوڈے کی رپورٹس کے مطابق محمد نعمان کو لائبہ اعجاز کے ساتھ مبینہ فراڈ کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ الزام تھا کہ طالبہ اور اس کے اہل خانہ سے امریکہ کی یونیورسٹی میں داخلہ، اسکالرشپ اور ویزا دلوانے کے وعدے پر رقم وصول کی گئی۔
لائبہ اعجاز انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے بی ایس کی ڈگری مکمل کرنے والی گولڈ میڈلسٹ تھیں اور اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ جانا چاہتی تھیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہیں بیرون ملک تعلیم اور سفر کے انتظامات کے سلسلے میں ایسی دستاویزات فراہم کی گئیں جو مبینہ طور پر جعلی تھیں۔ ان دستاویزات کے جعلی ہونے کا علم ہونے کے بعد طالبہ کی خودکشی کی اطلاع سامنے آئی۔
پولیس تحقیقات اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے مقدمے سے متعلق رپورٹ شدہ تفصیلات کے مطابق محمد نعمان اور ایک خاتون شریک ملزمہ فاطمہ سرور پر الزام ہے کہ انہوں نے باہمی ملی بھگت سے لائبہ اور ان کے اہل خانہ سے امریکی ویزے اور اسکالرشپ کا انتظام کرنے کے بہانے مبینہ طور پر 93 لاکھ روپے وصول کیے۔
رپورٹس میں مبینہ طور پر جعلی اسکالرشپ ایوارڈ لیٹرز، یونیورسٹی کے داخلہ آفر لیٹرز، فیس کی ادائیگی کی رسیدوں اور سفری دستاویزات کی فراہمی کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ طالبہ کے مالی معاملات کے سلسلے میں 20 ہزار امریکی ڈالر کی منتقلی ظاہر کرنے والی ایک مبینہ بینک ٹرانزیکشن رسید بھی فراہم کیے جانے کی اطلاع دی گئی۔
ڈان اور پاکستان ٹوڈے کی جانب سے ایف آئی آر کی تفصیلات کے حوالے سے بتایا گیا کہ مبینہ طور پر رقم کا کچھ حصہ لائبہ کے بینک اکاؤنٹ سے منتقل کیا گیا، جبکہ دیگر رقوم نقد ادا کی گئیں۔ دستاویزات جعلی ثابت ہونے کے بعد خاندان کو بھاری مالی نقصان پہنچنے کا الزام ہے۔
ایف آئی اے نے مبینہ فراڈ کی تحقیقات کے بعد محمد نعمان اور فاطمہ سرور کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات اور امیگریشن آرڈیننس 1979 کے تحت الگ مقدمہ درج کیا۔ تحقیقات کا مقصد ملزمان کے کردار اور اس معاملے میں دیگر افراد کی ممکنہ شمولیت کا تعین کرنا ہے۔
جیو نیوز کے مطابق تفتیش کار دیگر خواتین کے ساتھ مبینہ آن لائن فراڈ اور بلیک میلنگ کے الزامات کی بھی تحقیقات کر رہے تھے۔ پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ محمد نعمان کے موبائل فون کا فرانزک تجزیہ ممکنہ طور پر دیگر متاثرین کی نشاندہی میں مدد دے سکتا ہے۔
دوسری جانب، بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ محمد نعمان کو مانسہرہ میں ایک الگ مبینہ فراڈ کیس سے بھی منسلک کیا گیا تھا، جس میں ایک خاندان سے فوج اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) میں ملازمتیں دلوانے کے وعدے پر رقم لینے کا الزام تھا۔ یہ مقدمہ لائبہ اعجاز کی موت سے متعلق تحقیقات سے الگ ہے۔
مبینہ فراڈ، دیگر ملزمان کے کردار اور لائبہ اعجاز کی موت کے حالات سے متعلق الزامات تاحال تحقیقات اور قانونی کارروائی کا موضوع ہیں۔


