امریکہ کے ایران میں رات گئے نئے حملے، امن مذاکرات کے دوران کشیدگی میں اضافہ

0
11

واشنگٹن (ایم این این): امریکی فوج نے ایران میں رات گئے تازہ حملے کیے ہیں، جن میں ایک ایسے فوجی مقام کو نشانہ بنایا گیا جسے امریکی حکام نے امریکی افواج اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرہ قرار دیا۔

رائٹرز سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی فوج نے متعدد ایرانی ڈرونز کو بھی فضا میں مار گرایا، جنہیں خطے کی سلامتی اور سمندری نقل و حمل کے لیے خطرہ سمجھا جا رہا تھا۔

یہ حملے اس سے قبل منظرِ عام پر نہیں آئے تھے اور ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان تین ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

یہ جنگ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہوئی تھی، جس کے بعد ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ عالمی توانائی منڈیاں شدید دباؤ کا شکار ہیں اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی سرکاری میڈیا کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ممکنہ امن معاہدے کے تحت ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا مشترکہ انتظام سنبھالیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلی رہے گی اور اسے آزادانہ طور پر استعمال کیا جا سکے گا۔

تازہ حملوں سے قبل امریکہ نے پیر کو بھی کارروائی کی تھی جسے واشنگٹن نے دفاعی اقدام قرار دیا تھا، جبکہ ایران نے اسے دونوں ممالک کے درمیان نازک جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق پیر کے حملوں میں ان کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جن پر بارودی سرنگیں بچھانے کا شبہ تھا، جبکہ ایسے میزائل لانچنگ مقامات کو بھی نشانہ بنایا گیا جو امریکی افواج اور خطے میں بحری سرگرمیوں کے لیے خطرہ سمجھے جا رہے تھے۔

تازہ فوجی کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان خلیج میں کشیدگی کم کرنے اور مزید تصادم روکنے کے لیے وسیع تر معاہدے کی کوششیں جاری ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں