امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی کا مجوزہ معاہدہ ٹرمپ کی منظوری سے مشروط

0
11

واشنگٹن/تہران (ایم این این): امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کے لیے ایک مجوزہ فریم ورک طے پا گیا ہے، تاہم اس پر حتمی فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری کے بعد ہی ہوگا۔ یہ بات امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ کے دوران کہی۔

اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پہلے بات کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی تین بنیادی شرائط واضح ہیں: آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولا جائے، ایران اپنا اعلیٰ افزودہ یورینیم حوالے کرے اور اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی اور ایرانی مذاکرات کار 60 روزہ جنگ بندی میں توسیع کے ایک ابتدائی فریم ورک پر متفق ہو چکے ہیں، تاہم اس کی حتمی منظوری ابھی امریکی صدر کی جانب سے نہیں دی گئی۔ وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا جبکہ ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا نے بھی تاحال اس کی تصدیق نہیں کی۔

اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ اگر ان شرائط کے بغیر کوئی معاہدہ ممکن نہیں تو پھر ان کے بغیر کوئی عبوری معاہدہ بھی نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی عسکری کارروائیوں اور اقتصادی دباؤ نے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے پر مجبور کیا ہے۔

انہوں نے ایرانی سرکاری ایئرلائنز کو “قانون شکن” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ جو بھی ادارہ، ایئرپورٹ یا ملک ان پروازوں کو ایندھن، لینڈنگ یا ٹکٹنگ کی سہولت فراہم کرے گا، اسے امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مکہ اور مدینہ کی زیارت کے لیے سفر اور انسانی بنیادوں پر سفر کی اجازت برقرار رہے گی۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ عمان نے امریکا کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس اہم بحری گزرگاہ پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس نافذ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا کوئی اقدام کیا گیا تو امریکا متعلقہ افراد یا اداروں کے خلاف پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے مذاکراتی ٹیم سے قریبی ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت کا متن ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ ذریعے کے مطابق مغربی میڈیا میں معاہدے کو مکمل قرار دینے والی خبریں درست نہیں ہیں اور متن مکمل ہونے پر باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے آبنائے ہرمز میں ایران کے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون کے مطابق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری، سرزمین اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہا ہے اور کسی دشمنانہ کارروائی کے لیے اس اہم آبی گزرگاہ کو استعمال نہیں ہونے دے گا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی کہا کہ حالیہ امریکی حملوں کے بعد ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور کسی بھی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا۔

دوسری جانب سابق امریکی انسداد دہشت گردی سربراہ جو کینٹ نے کہا کہ ایران جنگ نے ثابت کیا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی اڈے امریکا کے لیے کمزوری بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا کو خطے میں اپنی عسکری موجودگی اور حکمت عملی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں