اسلام آباد (ایم این این): پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پارٹی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ سے قبل نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات میں مجوزہ ٹیکس اقدامات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکس نیٹ میں توسیع کا مطالبہ کیا۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں زرداری ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں بجٹ سے متعلق مختلف امور، ٹیکس پالیسی، ترقیاتی اخراجات، آمدنی کے اہداف اور مجموعی معاشی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے جاری کردہ بیان کے مطابق اجلاس میں بلاول بھٹو زرداری، شیری رحمان، نوید قمر، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور جام خان شورو بھی شریک تھے۔
اجلاس میں آئندہ وفاقی بجٹ، سرکاری اخراجات، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام، مالیاتی استحکام، عوامی فلاحی اقدامات اور جامع معاشی ترقی سے متعلق امور زیر غور آئے۔
دس جون کو پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ سے قبل حکومتی اتحادی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان یہ مشاورتی عمل کا دوسرا دور تھا، جبکہ ایک اور اہم اجلاس بجٹ پیش ہونے سے قبل متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار نے پیپلز پارٹی وفد کو یقین دہانی کرائی کہ ان کی تجاویز اور تحفظات کو بجٹ کی تیاری کے دوران مدنظر رکھا جائے گا۔
اجلاس میں پیپلز پارٹی نے اس معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط پوری کرنے کے لیے صوبوں پر اضافی محصولات جمع کرنے کا دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے وفاقی حکومت سے آئندہ بجٹ میں تقریباً چار سو تیس ارب روپے کے اضافی مالیاتی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ چاروں صوبوں کو بھی تقریباً اتنی ہی اضافی آمدن پیدا کرنے کے اہداف دیے گئے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے نمائندوں نے اجلاس میں یہ سوال اٹھایا کہ صوبائی حکومتیں عوام پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر محصولات میں کس طرح اضافہ کر سکتی ہیں۔
پارٹی کے ایک سینئر رہنما کے مطابق پیپلز پارٹی اس وقت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مالیاتی پالیسیوں پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم موجودہ بجٹ مسودے کے بعض نکات پر پارٹی کو تحفظات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بار بار انہی طبقات پر ٹیکس عائد کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو پہلے ہی ٹیکس دے رہے ہیں، جبکہ اصل ضرورت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور نئے شعبوں کو ٹیکس دائرے میں لانے کی ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں زیادہ تر گفتگو محصولات کے اہداف اور سرکاری اخراجات کے گرد گھومتی رہی۔
مذاکرات سے باخبر حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے وفاقی بجٹ کے لیے محصولات اور بنیادی مالیاتی سرپلس سمیت متعدد اہم معاشی اہداف مقرر کیے ہیں۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ صوبوں کے لیے بھی مخصوص مالیاتی اہداف مقرر کیے گئے ہیں، جسے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
بعد ازاں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے صحافیوں سے گفتگو میں نئے ٹیکسوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ایسی ٹیکس پالیسی اپنانی چاہیے جو مہنگائی سے متاثرہ عوام کو ریلیف فراہم کرے۔
پارٹی کا مؤقف ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ معیشت کو دستاویزی شکل دی جائے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے اور ٹیکس کا بوجھ منصفانہ انداز میں تمام شعبوں میں تقسیم کیا جائے، نہ کہ صرف محدود طبقوں پر مزید بوجھ ڈالا جائے۔


