راولاکوٹ جھڑپوں میں 7 شہری اور 4 اہلکار شہید، آزاد کشمیر میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

0
4

مظفرآباد (ایم این این): آزاد جموں و کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات شہری جاں بحق جبکہ چار قانون نافذ کرنے والے اہلکار شہید ہوگئے۔

پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے پیر کو تصدیق کی کہ اتوار کو پیش آنے والے پرتشدد واقعات میں سات شہری جان کی بازی ہار گئے، جبکہ چار سیکیورٹی اہلکار بھی شہید ہوئے۔

کمشنر سردار وحید خان اور آزاد کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس لیاقت علی ملک کے مطابق اتوار کی رات تیس افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ جھڑپوں کے دوران تئیس پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

یہ تصادم ایک مقامی تاجر کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے نتیجے میں شروع ہوا۔ تاجر مبینہ طور پر جمعہ کی شب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تصادم کے دوران گولی لگنے سے جاں بحق ہوا تھا۔

ذرائع کے مطابق متوفی کے اہل خانہ نے ابتدا میں ہفتے کے روز تدفین کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے لاش دوبارہ راولاکوٹ کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال منتقل کر دی تاکہ پوسٹ مارٹم کرایا جا سکے، جس کے باعث تدفین اتوار تک مؤخر کر دی گئی۔

لاش ہسپتال کے مردہ خانے میں رکھی گئی، تاہم پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا۔ اس دوران درجنوں افراد ہسپتال کے باہر دھرنا دیے بیٹھے رہے۔

عینی شاہدین کے مطابق حالات اس وقت کشیدہ ہوگئے جب پولیس نے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال کے باہر موجود مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔

مظاہرین اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی کے بعد انسداد ہنگامہ آرائی پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔

اس کے جواب میں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا، جس کے بعد صورتحال مزید خراب ہوگئی۔

متوفی تاجر کے اہل خانہ نے اعلان کیا کہ جب تک جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی کا حکومتی نوٹیفکیشن واپس نہیں لیا جاتا، وہ تدفین نہیں کریں گے۔

حکام نے مظاہرین پر کمبائنڈ ملٹری ہسپتال پر حملے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب آزاد کشمیر میں سیاسی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی قانون ساز اسمبلی کی ان بارہ مخصوص نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے جو ان کشمیری مہاجرین کے لیے مختص ہیں جو انیس سو سینتالیس کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔

تنظیم کا مؤقف ہے کہ ان نشستوں کو اکثر بڑی سیاسی جماعتیں حکومت سازی پر اثرانداز ہونے کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔

آزاد کشمیر حکومت نے جمعہ کو جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ اس کی سرگرمیاں ریاستی امن اور سلامتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔

اس کے بعد ہفتے کے روز مختلف علاقوں میں تنظیم کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا گیا اور گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔

پولیس نے تنظیم کے مرکزی دفتر کو بھی سیل کر دیا۔

سیکیورٹی صورتحال کے باعث آزاد کشمیر میں موبائل ڈیٹا سروسز بھی معطل ہیں، جس سے اطلاعات کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔

حکام نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر عوام اور سیاحوں کو بیس جون تک غیر ضروری سفر مؤخر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دریں اثنا، وفاقی حکومت نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی نیم فوجی دستے بھی آزاد کشمیر روانہ کر دیے ہیں تاکہ مقامی پولیس کی معاونت کی جا سکے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں