ایران جنگ کیلئے تیار، سفارت کاری کا دروازہ بھی کھلا رکھنے کا اعلان

0
24

تہران/واشنگٹن (MNN): ایران نے دوسرے ممالک پر تہران کے ساتھ اقتصادی تعلقات محدود کرنے کے لیے امریکی دباؤ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ممکنہ نئی جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم سفارت کاری کے ذریعے تنازع ختم کرنے کے لیے بھی بات چیت کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ان امریکی منصوبوں کو مسترد کیا جن کے تحت دیگر ممالک کو ایران کے ساتھ اقتصادی روابط محدود کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے امریکی نمائندے بھیجے جا رہے ہیں۔

ایکس پر ایک بیان میں غریب آبادی نے کہا کہ دنیا کی آزاد حکومتیں ایران کے ساتھ تعلقات کا فیصلہ اپنے مفادات اور ترجیحات کی بنیاد پر کرتی ہیں، امریکی محکمہ خزانہ کے احکامات پر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ دھمکیوں اور پابندیوں کے ذریعے اپنی مرضی مسلط کرنے کا دور ختم ہونے کے قریب ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر امریکی مؤقف کو متضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایک طرف کہتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہیں کرتا جبکہ دوسری جانب مارکیٹ میں اس کے اثرات ظاہر ہو رہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران کسی نئی جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں ’’مکمل طور پر تیار‘‘ ہے، تاہم ایران سفارت کاری کے ذریعے تنازع حل کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔

این بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ ایران کسی بھی نئی جارحیت کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا ہوگا، تاہم انہوں نے کہا کہ جنگ یا سفارت کاری میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کرنا ہے۔

عراقچی کے مطابق ٹرمپ کے عوامی بیانات کے باوجود ایران کو ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کی جانب سے ایرانی تجویز کو باضابطہ طور پر مسترد کیے جانے سے آگاہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران تنازع کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے بدلے تہران اپنے منجمد اثاثوں کی واپسی اور تیل فروخت کرنے کی اجازت چاہتا ہے۔

عراقچی نے کہا کہ وہ اب بھی سفارت کاری کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ امن کے کسی بھی موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلامحسین محسنی اژہ ای نے کہا کہ امریکہ نے جنگ اور جامع ناکہ بندی کے ذریعے ایران میں قلت اور قحط پیدا کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوا۔

سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق انہوں نے کہا کہ حالیہ دو جنگوں کے دوران شدید دباؤ کے باوجود ایران کو فوجی، سماجی یا اقتصادی طور پر شکست نہیں ہوئی۔

ٹرمپ کا ایرانی ہرمز تجویز پر اعتراض

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایرانی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے اس معاملے میں ’’اپنا ہاتھ زیادہ کھیل دیا‘‘ ہے۔

اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ نے ایکسیوس کو بتایا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن تہران کی پیش کردہ شرائط وہ نہیں جنہیں وہ قبول کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق یہ ایسی شرائط ہیں جن پر شاید امریکہ ایک سال پہلے غور کر لیتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی حملے کرنے کے امکان پر ’’ہمیشہ غور‘‘ کرتے رہتے ہیں۔

ایکسیوس نے معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات پیر کو بھی شروع ہو سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہفتے کے اختتام پر آبنائے ہرمز سے 20 ملین بیرل سے زیادہ تیل گزرا، جو ان کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے سب سے زیادہ مقدار ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے بھی ایران کی تجویز کو ’’مفاد پرستانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران مذاکرات شروع کرنے کے لیے ناکہ بندی اور پابندیاں ختم کرنے کے ساتھ ساتھ اربوں ڈالر کے منجمد اثاثوں تک رسائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔

والٹز کے مطابق سابقہ سفارتی کوششوں کے بعد واشنگٹن کو ایرانی تجویز پر اعتماد کم ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں