راولپنڈی (MNN)؛ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعرات کو بھارت کے اس دعوے کو چیلنج کیا کہ اپریل 2025 کے پہلگام حملے سے مبینہ طور پر منسلک پاکستانی فوج کے ایک سابق اہلکار کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں کارروائی کے دوران ہلاک کردیا گیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں مذکورہ شخص کو خود میڈیا کے سامنے پیش کردیا۔
بھارتی فوج اور میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ، جسے بھارتی حکام نے کالعدم لشکر طیبہ کا کمانڈر قرار دیا، 30 ستمبر کو بڈگام کے کورگ، یوسمرگ علاقے میں ایک کارروائی کے دوران مارا گیا۔ بھارتی ذرائع نے اسے پہلگام واقعے سمیت متعدد حملوں میں مطلوب قرار دیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس واقعے کو بھارت کی جانب سے مبینہ ’’فالس فلیگ‘‘ کارروائی قرار دیتے ہوئے 29 ستمبر سے شروع ہونے والی ایک ٹائم لائن پیش کی۔ انہوں نے بھارتی فوج کی چنار کور کی ان سوشل میڈیا پوسٹس کا حوالہ دیا جن میں کورگ کے علاقے میں بھارتی فوج، پولیس اور سی آر پی ایف کی مشترکہ کارروائی کا اعلان کیا گیا تھا۔
اگلی صبح بھارتی فوج نے دعویٰ کیا کہ ایک پاکستان سے تعلق رکھنے والے لشکر طیبہ کے مبینہ دہشت گرد کی لاش برآمد ہوئی ہے۔ بعدازاں بھارتی میڈیا نے اس شخص کی شناخت محمد آصف کے نام سے کی اور اسے پاکستان کے اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کا سابق اہلکار قرار دیا۔
بھارتی وزارت داخلہ نے بھی دعویٰ کیا کہ ’’موسیٰ عرف آصف فوجی‘‘ کو جاری آپریشن کے دوران ہلاک کیا گیا۔
تاہم پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے محمد آصف کو اسٹیج پر بلایا اور اسے اٹک کا رہائشی اور پاک فوج کا سابق اہلکار متعارف کرایا۔
محمد آصف نے میڈیا کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں اپنی ہلاکت کی خبریں دیکھ کر بعض دوستوں نے اسے فون کیا، جس پر اس نے انہیں بتایا کہ وہ اپنے گھر میں موجود اور ’’زندہ اور صحت مند‘‘ ہے۔
آصف کے مطابق اس نے 2000 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی، 2005 میں ایس ایس جی میں شامل ہوا، 18 سال خدمات انجام دیں اور 2023 میں ریٹائر ہوا۔ اس نے بتایا کہ بعدازاں تین سال تک نجی سکیورٹی کمپنی میں کام کیا اور گزشتہ تین سے چار ماہ سے اپنے خاندان کے ساتھ راولپنڈی میں مقیم ہے۔
آصف نے اپنے خلاف بھارتی الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بعدازاں بھارت کی جانب سے اس نوعیت کے بیانیے کے چھ اسباب بیان کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور دہشت گردی سے متعلق الزامات سے توجہ ہٹانے کی کوششوں سمیت مختلف عوامل کا ذکر کیا۔
انہوں نے بھارتی میڈیا کی کوریج پر بھی سوالات اٹھائے اور متعدد بھارتی نیوز اداروں کی رپورٹس کے اسکرین شاٹس دکھائے جن میں محمد آصف کی ہلاکت کے دعوے شائع کیے گئے تھے۔
دوسری جانب بھارتی حکام کا مؤقف برقرار ہے کہ بڈگام آپریشن میں ہلاک ہونے والا شخص محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ تھا، جسے وہ پاکستان سے منسلک لشکر طیبہ کا رکن قرار دیتے ہیں۔ بھارتی رپورٹس کے مطابق کارروائی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی اور موقع سے اسلحہ و دیگر سامان بھی برآمد ہوا۔
اس معاملے میں بنیادی تنازع دونوں جانب کے متضاد دعوے ہیں: پاکستانی حکام نے سابق فوجی محمد آصف کو زندہ میڈیا کے سامنے پیش کیا ہے، جبکہ بھارتی حکام بڈگام میں ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کے طور پر برقرار رکھے ہوئے ہیں۔


