حکومت سے مفاہمت عمران خان کے بغیر ممکن نہیں، پی ٹی آئی؛ مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار

0
18

اسلام آباد/پشاور (MNN): پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے حکومت کے ساتھ مفاہمت کو عمران خان کی شمولیت کے بغیر ناممکن قرار دے دیا ہے۔ یہ موقف حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہفتے کے اختتام پر ہونے والے مذاکرات کے دو ادوار بے نتیجہ رہنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ دونوں فریق مذاکرات کی ناکامی کی مختلف وجوہات بیان کر رہے ہیں، تاہم عمران خان تک رسائی اور خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی پالیسی اہم اختلافی نکات کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اسلام آباد میں خیبر پختونخوا ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے مذاکرات میں سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ شرکت کی، تاہم اسے زیر بحث معاملات پر بانی چیئرمین عمران خان سے مشاورت کی اجازت نہیں دی گئی۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عمران خان ہی ریاست اور قوم کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلے کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان پارٹی کے لیے انتہائی اہم ہیں اور پی ٹی آئی کو ان کی رائے لینے کا حق حاصل تھا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکومتی پالیسی پر اختلاف بھی تھا۔ پی ٹی آئی کو حکومت کی جانب سے صوبے میں دہشت گردی سے متعلق اقدامات کی حمایت پر زور دیا جا رہا تھا۔

راجہ کے مطابق پی ٹی آئی نے تجویز دی تھی کہ کسی بھی معاہدے میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کا اصول شامل کیا جائے، جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے امن جرگے کی سفارشات اور قبائلی عمائدین کی آرا کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ تاہم ان کے بقول حکومت اس بات کو تحریری معاہدے کا حصہ بنانے پر آمادہ نہیں تھی۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جمعہ اور ہفتہ کو ہونے والے مذاکرات کے دونوں ادوار کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے۔ حکومت نے پی ٹی آئی کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر عائد کی ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی نے زیر بحث معاہدے میں تبدیلی کی، جبکہ وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی پی ٹی آئی کے مذاکراتی مؤقف پر تنقید کی۔ حکومتی نمائندوں کے مطابق دہشت گردی کے خلاف تعاون بھی مذاکرات میں اہم مسئلہ تھا۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی خصوصی سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ بلانے کا فیصلہ

سیاسی ڈیڈلاک اور صوبے کی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے خصوصی سکیورٹی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ بلانے کا اعلان کیا ہے۔

اسپیکر نے کہا کہ سکیورٹی صورتحال پر غور کے لیے سیاسی قیادت اور متعلقہ ریاستی اداروں کو ایک میز پر بیٹھنا چاہیے اور وفاق کی جانب سے صوبائی حکومت کو امن و امان کی صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرانے سے پہلے اسمبلی کے شروع کردہ عمل کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

بابر سواتی کے مطابق کمیٹی کو صوبائی پولیس سربراہ، محکمہ انسداد دہشت گردی، محکمہ داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے بریفنگ دی جاچکی ہے۔ تاہم پشاور کور کمانڈر کی بریفنگ ابھی باقی ہے، جس کے باعث کمیٹی کی رپورٹ کو حتمی شکل نہیں دی جاسکی۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی تمام متعلقہ اداروں کا مؤقف سننے کے بعد سفارشات مرتب کرے گی، جنہیں خیبر پختونخوا اسمبلی کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ منظوری کے بعد سفارشات وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو بھیجی جائیں گی تاکہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت انسداد دہشت گردی کے اقدامات میں انہیں شامل کیا جاسکے۔

اسپیکر نے وزیراعظم شہباز شریف سے نومبر 2025 میں خیبر پختونخوا اسمبلی کے امن جرگے کے مشترکہ اعلامیے پر عملدرآمد کی بھی اپیل کی، جس میں دہشت گردی، سکیورٹی اور دیرپا امن سے متعلق صوبے کے عوام کے تحفظات اور مطالبات کا اظہار کیا گیا تھا۔

پی ٹی آئی کا احتجاجی مارچ جاری، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں قافلہ کوہاٹ پہنچ گیا

مذاکرات کی ناکامی اور وفاقی حکومت کی وارننگ کے باوجود پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ جاری رکھا ہوا ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پیر کو قافلے کی قیادت کرتے ہوئے کرک سے کوہاٹ تک سفر کیا، جہاں مظاہرین نے رات قیام کیا۔ مارچ کا مقصد عمران خان کی رہائی اور پی ٹی آئی کے سیاسی و سکیورٹی سے متعلق مطالبات کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔

کوہاٹ میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ ایک طویل جدوجہد ہے جس کے لیے تحمل اور مسلسل متحرک رہنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 8 اکتوبر سے احتجاج کا اگلا مرحلہ مزید شدت اختیار کرے گا۔

قافلہ 6 اکتوبر کو پشاور کی جانب روانہ ہوگا اور بعد ازاں چارسدہ اور خیرآباد سمیت مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا آگے بڑھے گا۔ پی ٹی آئی قیادت نے اسلام آباد پہنچنے کے آخری مرحلے کا منصوبہ ابھی ظاہر نہیں کیا اور کہا ہے کہ آئندہ لائحہ عمل کا اعلان خیرآباد پہنچنے پر کیا جائے گا۔

اس سے قبل سہیل آفریدی نے کرک میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی انسداد دہشت گردی پالیسی اور ماضی میں کیے گئے فوجی آپریشنز پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا یا ملک سے متعلق ایسے فیصلے قبول نہیں کیے جائیں گے جو بند کمروں میں کیے جائیں۔

سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور بھی ڈی آئی خان سے مارچ میں شامل ہونے کے لیے روانہ ہوئے تھے، تاہم راستوں کی بندش اور امن و امان کی صورتحال کے باعث یارک سے واپس ڈی آئی خان چلے گئے۔

حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد سیاسی کشیدگی ایک بار پھر سڑکوں پر منتقل ہوگئی ہے اور پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں اپنی احتجاجی سرگرمیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں