خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی قبول نہیں، غیر قانونی اقدام ہوا تو لانگ مارچ پشاور سے اسلام آباد کی جانب بڑھے گا

0
13

چارسدہ/مردان (ایم این این)؛ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ہفتے کے روز صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسا کوئی بھی ’’غیر قانونی اقدام‘‘ کیا گیا تو پی ٹی آئی کا لانگ مارچ صوابی کے بجائے پشاور کی جانب بڑھ سکتا ہے، جس کے بعد اسلام آباد کے ڈی چوک کی طرف پیش قدمی کی جائے گی۔

مردان میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے ساتویں روز شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ صوبائی حکومت کے خلاف کسی غیر قانونی اقدام یا مسلط کردہ فیصلے کو قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک میں شامل ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ پختونوں کو دھمکیوں، بندوقوں یا گولیوں سے خوف زدہ نہیں کیا جا سکتا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ گرفتاریاں اور دیگر اقدامات پی ٹی آئی کارکنوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتے اور پارٹی عمران خان کے خلاف ہونے والی مبینہ ناانصافیوں کے خاتمے اور ان کی رہائی کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔

اس موقع پر پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی محمد عاطف خان نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی کی حکمت عملی نے وفاقی حکومت کو مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو وفاقی حکومت کی تنبیہات کے باوجود لانگ مارچ شروع کیا تھا۔ اس سے قبل 3 اکتوبر کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات انسداد دہشت گردی کی پالیسی سمیت مختلف امور پر اختلافات کے باعث ناکام ہوگئے تھے۔

اگرچہ پی ٹی آئی نے ابتدا میں اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم حتمی منزل کے بارے میں اب تک واضح اعلان نہیں کیا گیا۔ لانگ مارچ تاحال خیبر پختونخوا تک محدود ہے، جہاں پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہے۔

صوابی میں لانگ مارچ کی آمد کے لیے تیاریاں

دوسری جانب حکام نے پی ٹی آئی لانگ مارچ کی پیش قدمی روکنے کے لیے صوابی انٹرچینج اور ایم ون موٹروے پر دریائے سندھ کے پل کے قریب کنٹینرز پہنچا دیے ہیں، تاہم موٹروے اور گرینڈ ٹرنک روڈ ٹریفک کے لیے کھلی رہیں۔

دریائے سندھ پر واقع یہ پل پنجاب اور خیبر پختونخوا کو آپس میں ملانے کے باعث اہمیت رکھتا ہے۔

سہیل آفریدی نے اس سے قبل ملک بھر سے پی ٹی آئی کارکنوں کو 11 اکتوبر کو صوابی انٹرچینج پہنچنے کی اپیل کی تھی۔ تاہم پی ٹی آئی کے ضلعی صدر سہیل یوسفزئی نے بتایا کہ مرکزی قافلہ پیر 12 اکتوبر کو صوابی پہنچے گا۔

ان کے مطابق وزیراعلیٰ نے پارٹی کارکنوں، ارکان اسمبلی اور عہدیداروں کو صوابی پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔

سہیل یوسفزئی نے بتایا کہ پشاور، ملاکنڈ اور کوہاٹ کے قافلے 13 اکتوبر کو صوابی انٹرچینج پہنچیں گے، جبکہ ہزارہ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان کے قافلے اگلے روز وہاں پہنچیں گے۔

وزیراعلیٰ کی ضلع مردان کے علاقے شیوا اڈہ، ضلعی ہیڈکوارٹر اور ٹوپی میں کارکنوں سے خطاب کی توقع ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات شفیع جان کے مطابق لانگ مارچ کا قافلہ رات مردان میں قیام کرے گا اور آئندہ لائحہ عمل کا اعلان 13 اکتوبر کو کیا جائے گا۔

دباؤ کے تحت دستخط کرنے سے انکار کیا، سہیل آفریدی

اس سے قبل چارسدہ کے فاروق اعظم چوک میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے صوبے میں فوجی آپریشنز کی مخالفت کا اعادہ کیا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور دباؤ یا دھمکیوں کے ذریعے مسلط کیے جانے والے فیصلے قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا، ’’مجھے دستخط کرنے کے لیے کہا گیا، لیکن میں نے انکار کر دیا۔‘‘ ان کا دعویٰ تھا کہ انہیں بعض فیصلوں کی منظوری پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ قومی سلامتی اور کشمیر کے معاملے پر ان کا مؤقف واضح ہے اور اہم قومی معاملات کو سیاسی دباؤ کے بجائے اصولوں کی بنیاد پر حل کیا جانا چاہیے۔

گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاملہ اب صرف نشستوں اور اقتدار تک محدود نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان اور پختونوں کے لیے اپنی وزارت اعلیٰ کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔

سہیل آفریدی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امن، استحکام اور بنیادی حقوق سے متعلق شہریوں کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا جانا چاہیے۔

انہوں نے پی ٹی آئی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ متحد اور منظم رہتے ہوئے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں۔ وزیراعلیٰ نے ایک بار پھر اعلان کیا کہ وہ 13 اکتوبر کو صوابی انٹرچینج پر آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

چارسدہ کے اجتماع میں پی ٹی آئی کے سینکڑوں کارکنوں نے شرکت کی۔ شرکاء پارٹی کے رنگوں والی ٹوپیاں پہنے عمران خان کے حق میں نعرے لگاتے رہے، جبکہ وزیراعلیٰ نے پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ کنٹینر پر کھڑے ہو کر خطاب کیا۔

خیبر پختونخوا پولیس کی احتجاج سے نمٹنے کے لیے ہدایات

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کی تیاریاں جاری رہنے کے دوران انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے پولیس اہلکاروں کو عملی ہدایات جاری کی ہیں، جن میں تحمل اور قانون کے مطابق کارروائی پر زور دیا گیا ہے۔

پولیس سربراہ کی جانب سے جاری ہدایات میں خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ 2017 اور موجودہ عملی طریقہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عوامی اجتماعات کے دوران شرپسند عناصر تشدد بھڑکانے یا تخریبی کارروائیاں کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

پولیس اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ پُرامن مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کرنے سے گریز کیا جائے اور احتجاج کرنے والوں سے دستیاب سینئر ترین پولیس افسر کے ذریعے مذاکرات کیے جائیں۔

تاہم، پرتشدد مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے مرحلہ وار اور قانون کے مطابق کم سے کم ضروری طاقت استعمال کرنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔

پہلے مرحلے میں مظاہرین کو تشدد سے باز رہنے کی وارننگ دینے کے بعد محفوظ فاصلے سے آنسو گیس، ربڑ کی گولیوں اور پیپر بال گنز کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے۔

ضرورت پڑنے پر انسداد ہنگامہ آرائی کے حفاظتی آلات کے ساتھ لاٹھی چارج اور غیر مسلح خصوصی دستوں کے ذریعے پرتشدد افراد کو گرفتار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

ہدایات کے مطابق اگر شدید تشدد کے باعث انسانی جانوں یا املاک کو فوری خطرہ لاحق ہو اور مظاہرین منتشر ہونے سے انکار کریں تو موقع پر موجود سینئر ترین افسر کی ہدایت پر خصوصی مسلح اہلکار فضائی فائرنگ کر سکتے ہیں۔

پولیس کو طاقت کے استعمال کے دوران انتہائی احتیاط برتنے اور جانی و مالی نقصان سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ متعلقہ تھانوں کے ایس ایچ اوز کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ احتجاج اور جلوسوں کی مکمل ویڈیو ریکارڈنگ کا انتظام کیا جائے، ترجیحاً پیشہ ور کیمرہ مینوں کے ذریعے۔

پولیس کو غیر قانونی اسلحہ اور ممنوعہ اشیاء قبضے میں لینے اور متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ضلعی پولیس افسران، سب ڈویژنل پولیس افسران اور ایس ایچ اوز کو اپنے علاقوں میں احتجاجی سرگرمیوں کی ذاتی طور پر نگرانی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پولیس کو سڑکیں اور عوامی مقامات عارضی طور پر بند یا محدود کرنے، اجازت نامے کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے والے جلوسوں کو روکنے اور حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔

ان مقامات میں پولیس اسٹیشن، سرکاری عمارتیں، پیٹرول پمپس، بینک، تجارتی مراکز اور اہم شاہراہیں شامل ہیں۔ ہدایات کے مطابق پولیس کی تعیناتی میں مکمل حفاظتی سامان سے لیس انسداد ہنگامہ آرائی دستے، شرپسند عناصر کی شناخت کے لیے غیر مسلح ٹیمیں، سادہ لباس اہلکار اور ہنگامی حالات میں ضلعی پولیس افسران کی براہ راست کمان میں مسلح اہلکار شامل ہوں گے۔

ہدایات جاری ہونے کے کچھ دیر بعد خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے الزام لگایا کہ صوبائی پولیس نے ان سمیت تمام ارکان اسمبلی کو فراہم کی گئی سکیورٹی واپس لے لی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر انہیں یا کسی رکن اسمبلی کو نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار آئی جی پولیس خیبر پختونخوا ہوں گے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں