وزیراعظم شہباز شریف کا خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا دفاع، اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لے لیا

0
10

اسلام آباد (ایم این این): وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے حکومتی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے اس انتہائی اقدام سے بچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی تھی۔

وفاقی حکومت نے اتوار کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کے ساتھ صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا۔ وفاقی حکومت نے اس فیصلے کی وجہ صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے مبینہ طور پر دانستہ لاتعلقی اختیار کرنا قرار دی تھی۔

وزیراعظم نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پی) اور دیگر اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور انہیں فیصلے کے پس منظر سے آگاہ کیا۔ دوسرے وفد میں مسلم لیگ (ق)، بلوچستان عوامی پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم لیگ ضیاء کے نمائندے شامل تھے۔

وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں ایم کیو ایم پاکستان کے وفد سے ملاقات کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ صوبائی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے باوجود مثبت جواب نہ ملنے پر خیبر پختونخوا کے عوام کے مفاد میں یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔

وزیراعظم کے مطابق صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات عام شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ صوبائی حکومت دہشت گرد گروہوں کے خلاف کھل کر آواز اٹھانے میں ناکام رہی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو بھی ملک کی بہتر ہوتی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا۔

وزیراعظم آفس کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے خیبر پختونخوا سے متعلق وفاقی حکومت کے فیصلوں کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔

اتحادی جماعتوں کی وفاقی فیصلے کی حمایت

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق، دیگر اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی وفد سے ملاقات میں وزیراعظم نے آئینی اقدامات کے اسباب بیان کیے۔

شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت خیبر پختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے لیے 800 ارب روپے سے زائد فراہم کیے۔ تاہم ان کے بقول صوبائی حکومت انسدادِ دہشت گردی کے محکمے (سی ٹی ڈی) کی استعداد بڑھانے اور سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے سیف سٹی منصوبے شروع کرنے میں مؤثر اقدامات نہیں کر سکی۔

پارلیمانی وفد نے موجودہ صورتحال میں وفاقی حکومت کی حمایت کا اظہار کیا اور وزیراعظم کی قیادت کو سراہا۔ وفد کے ارکان نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں خیبر پختونخوا صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے حوالے سے مناسب پیش رفت سے محروم رہا۔

ملاقاتوں میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ بھی شریک تھے۔

’ہمارے پاس اور کیا راستہ تھا؟‘

مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی میں اضافے اور پی ٹی آئی کی جانب سے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کے باعث وفاقی حکومت کو یہ قدم اٹھانا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام گزشتہ 13 برس سے اسکولوں، یونیورسٹیوں، اسپتالوں، بہتر امن و امان اور بدعنوانی کے خاتمے جیسے ترقیاتی اقدامات کے منتظر ہیں۔ تاہم ان کے بقول صوبائی حکومت نے عوامی فلاح کے بجائے لانگ مارچ اور احتجاج پر اپنی توجہ اور وسائل صرف کیے۔

وزیراعظم نے سوال کیا کہ کیا وفاقی حکومت خاموش تماشائی بنی رہتی اور اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ تھا؟

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان 3 اکتوبر کو مذاکرات ناکام ہونے کے بعد فیصلہ کرنے کی نوبت آئی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ معاہدہ طے پانے کے قریب تھا اور اتفاقِ رائے سے ایک مسودہ بھی تیار ہو چکا تھا، تاہم پی ٹی آئی کی مذاکراتی ٹیم نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے مشاورت کے لیے مزید وقت مانگا۔

وزیراعظم نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی نے مجوزہ مفاہمت قبول نہیں کی اور 9 مئی جیسے واقعات دہرانے کی کوشش کی۔ یہ الزامات انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کے دوران عائد کیے۔

انہوں نے بتایا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے مشاورت سمیت مختلف تبادلۂ خیال کے بعد 11 اکتوبر کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا۔

شہباز شریف نے گورنر راج کو پاکستان کے تحفظ کے لیے ضروری اقدام قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ گورنر کے تحت کام کرنے والی نئی خیبر پختونخوا ایڈوائزری کونسل صوبے میں امن و امان اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرے گی۔

دہشت گردی اور معاشی ترقی پر وزیراعظم کا مؤقف

وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے بیشتر حصوں سے کئی سال قبل دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا گیا تھا، تاہم حالیہ عرصے میں اس میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تشدد کے خاتمے پر زور دیا۔

شہباز شریف نے پی ٹی آئی قیادت پر الزام لگایا کہ وہ وفاقی حکومت، مسلح افواج، پولیس اور سی ٹی ڈی کے ساتھ تعاون کے بجائے احتجاج اور سیاسی محاذ آرائی کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے سہیل آفریدی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول انہوں نے شہید سکیورٹی اہلکاروں کے اہل خانہ سے ہمدردی اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔

وزیراعظم نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی سے اپنی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وفاق نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون کی متعدد بار پیشکش کی۔

معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے حال ہی میں پاکستان کی معاشی اصلاحات کو سراہتے ہوئے اسے ’نیا پاکستان‘ قرار دیا۔

انہوں نے گزشتہ ماہ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آزاد بین الاقوامی اداروں کی جانب سے پاکستان کی معاشی پیش رفت کی تعریف نے ملک کی ترقی کے حوالے سے ان کے اعتماد کو تقویت دی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں