مظفرآباد (ایم این این): آزاد جموں و کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کو کالعدم تنظیم قرار دیتے ہوئے اسے انسداد دہشت گردی ایکٹ 2014 کے فرسٹ شیڈول میں شامل کر دیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ تنظیم کی سرگرمیاں ریاست کے امن، سلامتی اور عوامی نظم و ضبط کے لیے نقصان دہ ہیں۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ تنظیم دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہے اور ایسے اقدامات کر رہی ہے جو ریاست کے امن و استحکام کے خلاف ہیں۔ حکومت کے مطابق جے اے اے سی عوام میں خوف و ہراس پھیلانے، نفرت انگیزی کو فروغ دینے، بدامنی پیدا کرنے اور معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس بڑھانے میں ملوث رہی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ آزاد کشمیر کے صدر نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 12 کے تحت تنظیم کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دی ہے۔ پابندی کا اطلاق تنظیم کے تمام معروف ناموں، بشمول جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی پر ہوگا۔
حکومتی حلقوں نے تنظیم پر الزام عائد کیا کہ اس نے ادارہ جاتی مذاکرات سے مسلسل گریز کیا اور حکومت کی قائم کردہ عمل درآمد کمیٹی کے ساتھ بات چیت سے انکار کیا، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ تنظیم انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
تنظیم نے 9 جون کو پہیہ جام ہڑتال کی کال دے رکھی ہے، جو اسی روز ہے جب آزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے 27 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا عمل شروع کرنے کا شیڈول مقرر کیا ہے۔ حکومت کو خدشہ ہے کہ ہڑتال انتخابی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
جمعہ کو حکومت نے بیرون علاقوں سے آنے والے افراد کو آزاد کشمیر کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا جبکہ موجودہ سیاحوں اور زائرین سے بھی خطہ چھوڑنے کی اپیل کی گئی۔
موجودہ احتجاج کی بنیادی وجہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں بھارتی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر سے 1947 کے بعد پاکستان آنے والے مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ ہے۔ جے اے اے سی کا مؤقف ہے کہ یہ نشستیں اکثر پاکستانی سیاسی جماعتوں کو مظفرآباد میں حکومت سازی پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
دوسری جانب آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی نے جمعرات کو مہاجرین کی مخصوص نشستوں کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہی منعقد ہوں گے۔
امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور ماضی جیسے ناخوشگوار واقعات سے بچنے کے لیے وفاقی حکومت نے اضافی نیم فوجی دستے آزاد کشمیر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مقامی پولیس کی معاونت کے لیے سیکیورٹی فورسز کی نفری بڑھائی جا رہی ہے۔
آزاد کشمیر پولیس کے انسپکٹر جنرل کیپٹن (ریٹائرڈ) لیاقت علی ملک نے 7 جون سے 21 جون تک سیکیورٹی انتظامات کے لیے وفاقی حکومت سے 14 ہزار اضافی اہلکاروں کی فراہمی کی درخواست کی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے مظفرآباد میں داخل ہوتے دکھائی دیے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اضافی نفری کی تعیناتی شروع ہو چکی ہے۔
کیپٹن (ریٹائرڈ) لیاقت علی ملک نے کہا کہ عوامی و نجی جان و مال کا تحفظ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے اور فورس قانون کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرے گی۔
ادھر سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ ممکنہ طور پر احتجاج کے دوران انٹرنیٹ اور موبائل ڈیٹا سروسز معطل کی جا سکتی ہیں۔ گزشتہ سال جے اے اے سی کی ہڑتال کے دوران بھی ایسی پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جس سے تعلیمی سرگرمیوں، آن لائن کاروبار، فری لانسنگ اور مواصلاتی نظام شدید متاثر ہوا تھا۔
دریں اثنا، یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر نے 8 جون سے شروع ہونے والے اسپرنگ 2026 سمسٹر کے امتحانات احتجاجی کال اور سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر آئندہ احکامات تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔


