گلگت بلتستان انتخابات پر بھارتی اعتراضات مسترد، پاکستان کا الزامات کو بے بنیاد پروپیگنڈا قرار

0
7

اسلام آباد (ایم این این): پاکستان نے گلگت بلتستان میں ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے بھارت کے اعتراضات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد، گمراہ کن اور حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

گلگت بلتستان میں عام انتخابات 7 جون کو منعقد ہونے جا رہے ہیں۔ شدید سرد موسم کے باعث انتخابات تقریباً چار ماہ مؤخر کیے گئے تھے۔ انتخابات سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں نے خطے بھر میں انتخابی مہم تیز کر دی ہے اور عوامی رابطہ مہمات جاری ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ بھارت بدستور بین الاقوامی سطح پر متنازع تسلیم شدہ ریاست جموں و کشمیر کے ایک حصے پر غیر قانونی قبضہ کیے ہوئے ہے اور جھوٹے بیانیے اور گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان بھارت کے حالیہ بیانات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور انہیں حقیقت کے منافی قرار دیتا ہے۔

یہ ردعمل بھارت کی وزارت خارجہ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں نئی دہلی نے گلگت بلتستان کے انتخابات پر اعتراض کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ جموں و کشمیر اور لداخ سمیت گلگت بلتستان بھی بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے۔

پاکستان نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر تنازع اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود سب سے پرانا حل طلب مسئلہ ہے اور اس کی بنیاد 1947 میں بھارت کے مبینہ غیر قانونی قبضے سے پڑی۔

دفتر خارجہ کے مطابق اس تنازع کا منصفانہ اور پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کے ذریعے ممکن ہے، جن میں کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے حق خودارادیت دینے کی ضمانت دی گئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ گلگت بلتستان سے متعلق بھارت کے دعوے دنیا کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مبینہ سنگین اور منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے نہیں ہٹا سکتے۔

پاکستان کے مطابق بھارتی سیکیورٹی فورسز سخت قوانین کے تحت استثنیٰ حاصل کیے ہوئے ہیں اور ان قوانین کی آڑ میں نہتے کشمیریوں کے خلاف ریاستی جبر جاری ہے۔

اسلام آباد نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ متنازع علاقوں سے اپنا قبضہ ختم کرے، 5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کیے گئے یکطرفہ اقدامات واپس لے اور سخت گیر قوانین کو منسوخ کرے۔

پاکستان نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ بھارت غیر جانبدار بین الاقوامی مبصرین، انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں اور عالمی ذرائع ابلاغ کو مقبوضہ کشمیر تک رسائی فراہم کرے تاکہ زمینی حقائق کا آزادانہ جائزہ لیا جا سکے۔

دفتر خارجہ نے زور دیا کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت استعمال کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔

دریں اثنا، گلگت بلتستان کی سابق نگراں حکومت کے وزیر غلام عباس نے بھی رواں سال بھارتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام ہمیشہ پاکستان کے وفادار رہے ہیں اور طویل عرصے سے پاکستان کا باقاعدہ آئینی حصہ بننے کے خواہاں ہیں۔

نیشنل پریس کلب میں ’’میٹ دی پریس‘‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے اپنی مرضی سے پاکستان کے ساتھ الحاق کا راستہ اختیار کیا تھا اور بھارت کے دعووں میں کوئی حقیقت نہیں۔

غلام عباس نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے یہ دعوے کہ گلگت بلتستان کے عوام پاکستان کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، خطے میں مذاق بن چکے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس بیانیے کو پذیرائی حاصل نہیں ہوئی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں