والد کے قتل کا انتقام لیا جائے گا- ٹرمپ کی ایران کو دھمکی، حملے کی صورت میں تباہ کن جواب کا انتباہ

0
22

تہران (ایم این این): ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد اور سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاکت کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتقام ایرانی قوم کا فیصلہ ہے اور اسے ہر صورت پورا کیا جائے گا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کے حملے یا قاتلانہ کوشش کی گئی تو امریکہ ایران کے خلاف انتہائی سخت فوجی کارروائی کرے گا۔

دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا یہ تبادلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی ثالث جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور سفارتی عمل کو دوبارہ فعال بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ فروری کے آخر میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد حالیہ دنوں میں دوبارہ ہونے والے حملوں نے عبوری امن معاہدے کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

اپنے والد کی تدفین کے بعد جاری پہلے عوامی پیغام میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ انتقام صرف ان کی ذاتی خواہش نہیں بلکہ پوری ایرانی قوم کا عزم ہے اور یہ مقصد قیادت کی تبدیلی سے بھی متاثر نہیں ہوگا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے ان افراد کی نشاندہی کر لی ہے جنہیں اس واقعے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے اور ان کے خلاف کارروائی کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ان کے خلاف کسی بھی قسم کی قاتلانہ کارروائی کی گئی تو امریکہ ایران کے خلاف بھرپور اور تباہ کن فوجی طاقت استعمال کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی فوج مکمل طور پر تیار ہے اور ضرورت پڑنے پر ایران کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے کے احکامات پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔

اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے، تاہم سفارتی کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق قطر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد تہران پہنچا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بحال کرانے اور قطر کے ثالثی کردار کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اگرچہ مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے، تاہم انہوں نے ان مذاکرات کی افادیت پر شکوک کا اظہار بھی کیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے 18 جون کو پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں اور کسی بھی مستقل معاہدے کے لیے دونوں ممالک کی جانب سے یکساں عمل درآمد ضروری ہوگا۔

حالیہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب ایران پر الزام لگایا گیا کہ اس نے تین تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کے بعد امریکہ نے ایران میں تقریباً 90 مقامات پر فضائی حملے کیے۔

ایرانی وزارت صحت کے مطابق ان حملوں میں 17 افراد جاں بحق جبکہ 115 زخمی ہوئے، جس کے بعد ایران نے خطے میں امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والے بعض ممالک کے خلاف جوابی اقدامات کیے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں براہِ راست جبکہ قطر میں بالواسطہ مذاکرات بھی ہوئے، تاہم اب تک کسی نمایاں پیش رفت کی اطلاع نہیں ملی۔

دونوں ممالک کے درمیان سب سے اہم تنازع آبنائے ہرمز کے مستقبل پر برقرار ہے۔

ایران نے جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کو تجارتی جہازوں کے لیے بند کر دیا تھا اور اب اس کا مؤقف ہے کہ مستقبل میں بحری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کی نگرانی اور فیس وصولی کا اختیار ایران کے پاس ہوگا، جبکہ امریکہ اس مؤقف کو بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیتا ہے۔

اسی معاملے پر بات چیت کے لیے وزیر خارجہ عباس عراقچی ہفتہ کو عمان پہنچے جہاں آبنائے ہرمز کے انتظامی امور پر مشاورت کی جا رہی ہے۔

ادھر اطلاعات کے مطابق امریکہ نے ایران کو تجارتی جہازوں پر حملے روکنے اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے ایک مہلت بھی دی ہے۔

خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے تحت قطر کے امیر نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا، جبکہ وزیراعظم نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو میں خطے میں قائم ہونے والے امن کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

تاہم ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ اگرچہ جنگ کا خاتمہ اہم ہے، لیکن ایران کسی بھی دباؤ کے تحت ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم اپنے ملک کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور ہر قسم کی بیرونی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کرے گی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں