اسلام آباد (MNN)؛ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے احتجاج کو عدلیہ کی حمایت میں قرار دینے پر خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل عثمان خیل کو سرزنش کر دی۔
پی ٹی آئی نے پارٹی بانی عمران خان کی رہائی اور آئین کی بالادستی کے مطالبے کے لیے 27 ستمبر کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔
احتجاج کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ عدلیہ کی مضبوطی اور حمایت کے لیے بھی ہے۔
چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے طنزیہ انداز میں استفسار کیا کہ کیا عدلیہ اتنی کمزور ہے کہ اسے کسی سیاسی جماعت کی حمایت سے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ عدلیہ کسی سیاسی جماعت کی حمایت کی محتاج نہیں۔
اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ سرکاری مشینری کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، خواہ احتجاج پرامن ہی کیوں نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی سرکاری افسر آئین اور قانون کے منافی حکم پر عمل کرنے کا پابند نہیں۔
تاہم اٹارنی جنرل نے کہا کہ کسی صوبے کے چیف ایگزیکٹو کی جانب سے جاری حکم سے انکار کرنا کسی افسر کے لیے مشکل ہو سکتا ہے، جس کے حوالے سے انہوں نے پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر عدالت کوئی واضح حکم جاری کرتی ہے تو صوبائی انتظامیہ کے عہدیدار اس پر عمل درآمد کے پابند ہوں گے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس 2024 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے حکم پر عمل درآمد کے پابند نہیں تھے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وہ اس حکم پر عمل درآمد کے پابند تھے۔
خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عدالتی نوٹس صرف ایک روز قبل ملا اور وہ درخواست کے مندرجات سے بھی آگاہ نہیں تھے۔ انہوں نے معاملے کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ مجوزہ لانگ مارچ کو “حملہ” کیوں تصور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ ماضی میں اعلیٰ عدالتوں کے بعض احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا اور عمران خان، ان کے اہل خانہ اور پارٹی قیادت سے ملاقاتوں سے متعلق عدالتی احکامات کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں توہینِ عدالت کی متعدد درخواستیں بھی دائر کی گئیں۔
کے پی کے ایڈووکیٹ جنرل نے دلائل کی تیاری کے لیے دو دن کی مہلت طلب کی، تاہم چیف جسٹس نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے انہیں اگلے روز تک کی مہلت دی اور ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر اپنے دلائل کا آغاز کریں۔
عدالت نے کے پی کے ایڈووکیٹ جنرل کو یہ ریکارڈ بھی پیش کرنے کی ہدایت کی کہ ماضی میں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے چاروں صوبوں کے انسپکٹر جنرل پولیس، چیف سیکریٹریز اور دیگر متعلقہ حکام کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے انہیں 11 ستمبر (جمعہ) کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی۔


