اسلام آباد (MNN)؛ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ مسلسل جنگ کے بجائے نظام کا حصہ بن کر اپنے عقائد، نظریات اور حقوق کا دفاع کیا جاسکتا ہے، جبکہ پاک بھارت جنگ ہو یا کوئی معاشی مسئلہ، چین نے ہر فورم پر ہمیشہ پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ’’مسلم دنیا اور چین، تزویراتی صورتحال‘‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ چین کے نظام میں رہتے ہوئے مسلمان اپنے عقائد اور نظریات پر قائم رہ سکتے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نظام کا حصہ بن کر اپنی کمیونٹی کے حقوق، مفادات اور نمائندگی کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ چین میں مسلمانوں کو انتخابی نظام میں حصہ لے کر اپنی نمائندگی یقینی بنانی چاہیے۔ پاکستان کے چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہمیشہ ہماری ترجیح رہے ہیں اور دونوں ممالک نے مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ انہوں نے چین کے مختلف علاقوں، خصوصاً سنکیانگ اور ارومچی میں مسلمانوں کی مذہبی زندگی کا مشاہدہ کیا ہے اور مساجد میں مسلمانوں کو نماز ادا کرتے اور قرآن پاک کی تلاوت کرتے دیکھا ہے۔
سنکیانگ میں مبینہ مظالم اور جبر سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسی اطلاعات سننے میں آتی رہتی ہیں، تاہم جو لوگ ہتھیار اٹھاتے ہیں، ہر ریاست ان کے خلاف سخت کارروائی کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں براہ راست مداخلت نہیں کی جاسکتی، البتہ یہ خواہش ضرور ہوسکتی ہے کہ حالات بہتر ہوں۔
جے یو آئی (ف) کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ قائد جمعیت نے چین کے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ وہ اپنے عقائد اور نظریات پر قائم رہتے ہوئے وہاں کے نظام کا حصہ بنیں اور اسی کے ذریعے اپنے حقوق کا دفاع کریں۔
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ مسلسل جنگ کے بجائے نظام کا حصہ بن کر اپنے عقائد، حقوق اور نمائندگی کا تحفظ زیادہ مؤثر انداز میں کیا جاسکتا ہے۔
مولانا عبدالغفور حیدری کے مطابق چین کے ساتھ پاکستان کے اچھے اور دوستانہ تعلقات ہمیشہ جے یو آئی (ف) کی ترجیحات میں شامل رہے ہیں۔ ان کے بقول ان کے اکابر نے پاک چین دوستی کے فروغ میں کردار ادا کیا جبکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے بھی جمعیت علمائے اسلام کا کردار رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سی پیک کا بنیادی تصور قائد جمعیت نے چینی قیادت کے سامنے پیش کیا تھا، جو بعد ازاں کئی سال کے دوران ایک باقاعدہ منصوبے کی شکل اختیار کرگیا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ڈاکٹر تنویر احمد علوی نے کہا کہ پاک چین تعلقات ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہرے اور فولاد سے مضبوط ہیں۔ دونوں ممالک نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔


