اسلام آباد (ایم این این)؛ پاکستان اور روس نے دوطرفہ سکیورٹی تعاون مضبوط بنانے، متعلقہ اداروں کے درمیان روابط بڑھانے اور دہشت گردی، منظم جرائم اور سائبر کرائم کے خلاف مشترکہ اقدامات میں تعاون وسیع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولوکولتسیف نے بدھ کو راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سکیورٹی کی صورتحال اور دونوں ممالک کے سکیورٹی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ دونوں فریقین نے پاکستان اور روس کے سکیورٹی اداروں کے درمیان ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے اور باہمی رابطہ کاری بہتر کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے روس کے ساتھ دیرینہ تعلقات مزید مستحکم بنانے اور بالخصوص سکیورٹی کے شعبے میں عملی تعاون بڑھانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
روسی وزیر داخلہ نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قربانیوں کا اعتراف کیا۔
کولوکولتسیف وزیر داخلہ محسن نقوی کی دعوت پر پیر کو پاکستان کے چار روزہ دورے پر پہنچے تھے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ روس کے وزیر داخلہ نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔
پاکستان اور روس حوالگیِ ملزمان کا معاہدہ حتمی شکل دیں گے
اس سے قبل بدھ کو اسلام آباد میں وزیر داخلہ محسن نقوی اور روسی وزیر داخلہ کولوکولتسیف کی ملاقات میں ملزمان کی حوالگی کے معاہدے کو حتمی شکل دینے اور منظم جرائم کی روک تھام اور معلومات کے تبادلے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کی تیاری پر اتفاق کیا گیا۔
وزارت داخلہ کے مطابق ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوئے۔
محسن نقوی نے کہا کہ منظم جرائم کی روک تھام کے لیے مجوزہ مفاہمتی یادداشت دونوں ممالک کے تعاون میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔
دونوں فریقین نے ملزمان کے تبادلے سے متعلق معاہدے کو حتمی شکل دینے اور واپس بھیجنے سے متعلق معاہدے پر جلد عمل درآمد یقینی بنانے پر بھی اتفاق کیا۔
پاکستان کی اینٹی نارکوٹکس فورس اور روس کے متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کی وزارت داخلہ کے ورکنگ گروپس کے ایک دوسرے کے ممالک کے دورے بھی جلد متوقع ہیں۔
مذاکرات میں پاکستانی ہنرمند افرادی قوت کو روس بھیجنے اور سیاحوں و کاروباری افراد کے لیے ویزوں کے حصول میں سہولت فراہم کرنے کے امور بھی زیر بحث آئے۔
دونوں ممالک نے سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے پاکستان کی نیشنل پولیس اکیڈمی اور روسی پولیس اکیڈمی کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ ویزا پالیسی میں آسانی سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط فروغ پائیں گے۔ انہوں نے سائبر کرائم کی روک تھام میں روس کے تجربات سے استفادہ کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔
وزیر داخلہ کے مطابق اس وقت تقریباً 1,300 پاکستانی طلبہ روس میں زیر تعلیم ہیں اور پاکستان چاہتا ہے کہ مزید طلبہ بھی وہاں تعلیم حاصل کریں۔
روسی وزیر داخلہ کولوکولتسیف نے کہا کہ دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل مکانی سمیت تمام اقسام کے منظم جرائم کی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مؤثر اقدامات کے ذریعے روس میں سائبر کرائم کی شرح میں 33 فیصد کمی لائی گئی ہے۔
ملاقات میں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، پاکستان میں روس کے سفیر، وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
پاکستان اور روس کے اقتصادی و توانائی روابط میں اضافہ
حالیہ برسوں میں پاکستان اور روس کے درمیان اقتصادی تعلقات میں وسعت آئی ہے، جبکہ توانائی کا شعبہ دونوں ممالک کے لیے باہمی دلچسپی کا اہم میدان بن کر ابھرا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جنوری میں کہا تھا کہ ماسکو اور اسلام آباد کے تعلقات حقیقی معنوں میں دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہیں۔ گزشتہ جولائی میں روس کے نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک نے پاکستان اور روس کو قدرتی اتحادی قرار دیتے ہوئے معیشت اور توانائی کے شعبوں میں پاکستان کی تزویراتی اہمیت اجاگر کی تھی۔
یوکرین تنازع کے تناظر میں مغربی پابندیوں کے بعد روس نے توانائی کی برآمدات کے لیے متبادل منڈیوں کی تلاش تیز کی، جبکہ پاکستان نے درآمدی اخراجات کم کرنے کے لیے نسبتاً سستے ایندھن کے ذرائع تلاش کیے۔
دونوں ممالک کے توانائی تعاون میں 2023 میں اہم پیش رفت ہوئی، جب پاکستان نے روسی خام تیل کی درآمد شروع کی۔ اس پیش رفت نے اسلام آباد اور ماسکو کے بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات میں ایک نیا پہلو شامل کیا۔


