ٹرمپ کا کہنا ہے ایران معاہدے کی شرائط پر ابھی مکمل اطمینان نہیں، مذاکرات جاری

0
10

واشنگٹن (ایم این این): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے کی شرائط سے ابھی مکمل طور پر مطمئن نہیں، تاہم انہیں یقین ہے کہ بالآخر ایک معاہدہ طے پا جائے گا۔

وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ تہران معاہدہ چاہتا ہے اور موجودہ معاشی صورتحال میں اس کے پاس زیادہ آپشنز نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے، اس کی کرنسی کمزور ہو چکی ہے اور معاشی نظام مشکلات سے دوچار ہے۔

ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور یہ صرف امریکہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے مفاد کا معاملہ ہے۔

انہوں نے کہا، “ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ میں یہ صرف امریکہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے کر رہا ہوں۔”

امریکی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلی رہنی چاہیے اور کسی بھی معاہدے کے تحت کسی ایک ملک کو اس پر کنٹرول حاصل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ “ہم اس کی نگرانی کریں گے، لیکن اس پر کسی کا کنٹرول نہیں ہوگا، اور یہ مذاکرات کا اہم حصہ ہے۔”

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اجلاس کو بتایا کہ واشنگٹن کی پہلی ترجیح سفارت کاری ہے اور امریکہ اب بھی معاہدے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور آنے والے گھنٹوں یا دنوں میں واضح ہو جائے گا کہ مزید پیش رفت ممکن ہے یا نہیں۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ امریکی انٹیلیجنس کے مطابق ایران کی معیشت پر شدید دباؤ ہے اور ایرانی بندرگاہوں پر جہاز رانی متاثر ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے پاس مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے یا ضرورت پڑنے پر دیگر اقدامات کرنے کے دونوں راستے موجود ہیں۔

یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب امریکہ اور ایران کئی ہفتوں کے بالواسطہ مذاکرات کے بعد ایک مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا مقصد جنگ بندی برقرار رکھنا اور ایران کے جوہری پروگرام اور خطے کی سلامتی سے متعلق وسیع مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق دستاویز کے بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم بعض شقوں کی زبان اور طریقہ کار پر اختلافات برقرار ہیں۔

اسی دوران ایرانی سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ تہران کو مجوزہ فریم ورک کا ابتدائی مسودہ موصول ہو گیا ہے، جس کے تحت ایران ایک ماہ کے اندر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی بحال کرے گا جبکہ امریکہ قریبی فوجی موجودگی کم کرے گا اور بحری ناکہ بندی ختم کرے گا۔

تاہم وائٹ ہاؤس نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ رپورٹ کیا جانے والا مسودہ مکمل طور پر من گھڑت ہے۔

حالیہ دنوں میں مذاکرات کی رفتار سست ہوئی ہے، جبکہ حکام کے مطابق الفاظ کے معمولی فرق بھی اہم ہیں کیونکہ ماضی میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان کئی معاہدے تشریح اور عملدرآمد کے تنازعات کے باعث ناکام ہو چکے ہیں۔

مذاکرات سے جڑی جنگ بندی آٹھویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، تاہم خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

ایران نے حالیہ امریکی فوجی کارروائیوں پر ردعمل کا عندیہ دیا ہے، جبکہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لبنانی سرحد پر جھڑپوں نے خطے میں بڑے تصادم کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے ایک عہدیدار نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ دوبارہ جنگ کا امکان کم ہے، تاہم ایران کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

خلیجی ممالک اور عالمی توانائی منڈیاں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز میں عدم استحکام تیل کی سپلائی متاثر کر سکتا ہے اور عالمی معیشت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں