حکومت کا چھوٹے تاجروں کے لیے ’’فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم‘‘ کا آغاز، ٹیکس نیٹ بڑھانے کی نئی کوشش

0
6

اسلام آباد (ایم این این): حکومت نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور چھوٹے تاجروں کے لیے ٹیکس نظام کو آسان بنانے کے مقصد سے ’’فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم‘‘ متعارف کرا دی ہے، جس کے تحت سالانہ 20 کروڑ روپے تک کاروبار کرنے والے تاجروں اور دکانداروں کو سادہ طریقہ کار کے ذریعے ٹیکس ادا کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

اس اسکیم کا اعلان وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے رکن حامد عتیق سرور نے مشترکہ طور پر کیا۔

حکومتی حکام کے مطابق اسکیم تاجر تنظیموں اور کاروباری نمائندوں کے ساتھ مشاورت کے بعد تیار کی گئی ہے تاکہ ٹیکس ادائیگی کا عمل آسان، شفاف اور کاروبار دوست بنایا جا سکے۔

اس منصوبے کے تحت اہل تاجروں کو اپنے سالانہ کاروباری حجم کا ایک فیصد بطور ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ایک سادہ ٹیکس فارم متعارف کرایا جائے گا جو مقامی زبانوں میں بھی دستیاب ہوگا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ تاجروں کی جانب سے پہلے سے ادا کیا گیا ودہولڈنگ ٹیکس ان کی واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کیا جا سکے گا، بشرطیکہ ریٹرن جمع کراتے وقت کم از کم 25 ہزار روپے ادا کیے جائیں۔ بصورت دیگر ایک فیصد کی مکمل شرح لاگو ہوگی۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ اسکیم اختیاری ہوگی اور تاجر اپنی مرضی سے اس میں شامل ہو سکتے ہیں یا موجودہ ٹیکس نظام کے تحت کام جاری رکھ سکتے ہیں۔

اسکیم میں شامل ہونے والے تاجروں کو ایک خصوصی تختی جاری کی جائے گی جس پر ان کا نام، رجسٹریشن نمبر، قومی ٹیکس نمبر (این ٹی این) اور ایک کیو آر کوڈ درج ہوگا۔ ٹیکس حکام کیو آر کوڈ اسکین کرکے تصدیق کر سکیں گے اور تصدیق کے بعد معمول کی ٹیکس انسپیکشن کے لیے کاروباری مقام میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔

وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ اسکیم اختیار کرنے والے تاجروں کو پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) نظام اور معمول کے آڈٹ سے بھی استثنیٰ حاصل ہوگا۔ اگر کسی قسم کا ٹیکس تنازع پیدا ہوا تو اسے متعلقہ تاجر تنظیموں کی مشاورت سے حل کیا جائے گا۔

اس اسکیم میں موجودہ فائلرز اور نان فائلرز دونوں شامل ہو سکیں گے، بشرطیکہ گزشتہ تین برسوں میں ان کا سالانہ کاروبار 20 کروڑ روپے سے تجاوز نہ کر گیا ہو اور ان کا قابل ادا ٹیکس گزشتہ سال کی نسبت زیادہ ہو۔

بلال اظہر کیانی نے خبردار کیا کہ وہ تاجر جو نہ نئی اسکیم میں شامل ہوں گے اور نہ ہی معمول کے ٹیکس نظام کا حصہ بنیں گے، انہیں جرمانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پہلے ماہ 10 ہزار روپے، دوسرے ماہ 25 ہزار روپے اور تیسرے ماہ 51 ہزار روپے ماہانہ جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ماضی کی ناکام اسکیموں سے حاصل کیے گئے تجربات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے اور حکومت کو اس کی کامیابی کا یقین ہے۔

چھوٹے ٹھیلوں، ریڑھی بانوں اور عارضی اسٹالز کے ذریعے کاروبار کرنے والوں کو اس اسکیم سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ایف بی آر کے رکن حامد عتیق سرور نے بتایا کہ ملک میں تقریباً 44 لاکھ تاجر موجود ہیں جن میں سے لگ بھگ 35 لاکھ اس اسکیم کے دائرہ کار میں آئیں گے۔ تاہم بڑے ٹئیر ون کاروبار، خصوصاً برانڈڈ ریٹیل سیکٹر سے وابستہ ادارے، اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کا مقصد ایسے تاجروں کو ٹیکس نظام میں شامل کرنا ہے جو اس وقت بہت کم یا بالکل ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ ان کی معمولی شمولیت بھی قومی محصولات میں اہم اضافہ کر سکتی ہے اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر بوجھ کم ہوگا۔

حکام نے واضح کیا کہ اس منصوبے کو ٹیکس ایمنسٹی اسکیم نہیں سمجھا جانا چاہیے بلکہ یہ ایک سادہ اور آسان ٹیکس نظام ہے جس کا مقصد رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کو فروغ دینا ہے۔

اسکیم کے تحت صرف وہ کاروبار اہل ہوں گے جو کم از کم تین سال سے فعال ہوں، مستقل کاروباری مقام رکھتے ہوں اور خصوصی پیشہ ورانہ خدمات کے بجائے تجارتی سرگرمیوں سے وابستہ ہوں۔

تاجر ایف بی آر کی ویب سائٹ، موبائل ایپلی کیشنز یا مجاز ٹیکس پریکٹیشنرز کے ذریعے رجسٹریشن کرا سکیں گے اور انہیں فروخت، خریداری، اخراجات اور دیگر کاروباری لین دین کا بنیادی ریکارڈ محفوظ رکھنا ہوگا۔

اس اسکیم میں شامل افراد کو ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ (اے ٹی ایل) میں شمولیت، کم ودہولڈنگ ٹیکس شرحوں اور بہتر مالی ساکھ جیسے فوائد بھی حاصل ہوں گے۔

یہ اعلان وفاقی بجٹ 2026-27 کی پیشی سے چند روز قبل سامنے آیا ہے۔ 10 جون کو پیش کیے جانے والے بجٹ کی تیاری بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی کڑی نگرانی میں ہونے کی توقع ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں